السلام علیکم
میری عمر 22 سال ہے اور میں B.com کر رہا ہوں، میرے والدصاحب انتقال کر چکے ہیں، اب والدہ اور دو بڑے بھائی ہیں اور میں گھر میں سب سے چھوٹا ہوں، جبکہ میری والدہ بھی ملازمت کرتی ہیں اور دونوں بھائی بھی ،والدہ کی سیلری دس ہزار بھائی کی آٹھ ہزار اور دوسرے بھائی کی چھبیس ہزار ہے، میں بیروزگار ہوں اور میرے پاس سٹی بینک ، نیب بینک اور اسٹیٹ لائف سے جاب کی آفر ہے ، کیا میرے لئے یہ ملازمت جائز ہے اور حلال ہے ؟ راہ نمائی فرمائیں۔
بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے ہے( جیسے منیجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت) ایسی ملازمت بالکل حرام اور نا جائز ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے ’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیه وسلم أكل الربو وموكله وكاتبه و شاهدیه قال وهم سواء‘‘۔ (مسلم شریف ۲/ ۲۷) یعنی رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے ، سودی تحریر لکھنے والے ، اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ وہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں، اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے ، لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی معاملات سے نہیں ، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہے نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات سے ہے اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکیداری کی ملازمت، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں۔
ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں ،کیونکہ ایسے ملازمین کا سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہے، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بطور سود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بنسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں تو ا سکے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔ اور کسی دوسرے حلال ذریعۂ معاش کو تلاش کرے۔
میزان بینک میں ملازمت اور کوئی دوسری ملازمت مل رہی ہو تو کونسی اختیار کی جائے ؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0