السلام علیکم ! آپ سے راہ نمائی کی درخواست ہے، کہ چندے کے پیسوں سے تعلیمی ادارہ چلانا اور اس میں سے اپنی تنخواہ وصول کرنا شرعی نقطہ نگاہ سے جائز ہے یا نہیں ؟ اگر یہ چندہ مسلمان کا ہو تو کیا حکم ہے اور اگر غیر مسلم کا ہو تو کیا حکم ہے؟
چندے کی مد میں جمع ہونے والے نفلی صدقات کی رقم سے مطلقا اور صدقات واجبہ کی رقم سے تملیک کے بعد ادارے کی تمام ضروریات ( بشمول منتظم کی تنخواہ کے ) پورا کرنا اور اس رقم سے تعلیمی ادارہ چلانا شرعا جائز اور درست ہے، خواہ چندہ دینے والا مسلمان ہو یا غیر مسلم ، البتہ غیر مسلموں سے چندہ لینے میں کوئی مفسدہ ہو تو پھر چندہ لینے سے احتراز چاہئے ، تاہم اگر وہ خود اپنی مرضی سے چندہ جمع کرادیں، اور کسی مفسدہ کا اندیشہ بھی نہ ہو تو چندہ لینے میں کوئی حرج نہیں۔
ففی أحكام القرآن للجصاص: قوله تعالى يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم الآية وقال لا تتخذوا اليهود والنصارى أولياء بعضهم أولياء بعض ومن يتولهم منكم فإنه منهم فنهى في هذه الآيات عن موالاة الكفار وإكرامهم وأمر بإهانتهم وإذ لا لهم ونهى عن الاستعانة بهم في أمور المسلمين لما فيه من العز وعلو اليد وكذلك كتب عمر إلى أبي موسى ينهاه أن يستعين بأحد من أهل الشرك في كتابته اھ (4/ 293)۔
و في الدر المختار: (ومصرف الجزية والخراج ومال التغلبي وهديتهم للإمام) وإنما يقبلها إذا وقع عندهم إن قتالنا للدين لا الدنيا جوهرة (وما أخذ منهم بلا حرب) ومنه تركة ذمي وما أخذه عاشر منهم ظهيرية (مصالحنا) خبر مصرف (كسد ثغور وبناء قنطرة وجسر وكفاية العلماء) والمتعلمين تجنيس وبه يدخل طلبة العلم فتح اھ (4/ 217)۔
و في الفتاوى الهندية: أن كل حيلة يحتال بها الرجل لإبطال حق الغير أو لإدخال شبهة فيه أو لتمويه باطل فهي مكروهة وكل حيلة يحتال بها الرجل ليتخلص بها عن حرام أو ليتوصل بها إلى حلال فهي حسنة اھ (6/ 390)۔