زید اپنی بیوی کو طلاق نہیں دینا چاہتا، زید کے گھر والوں نے زور دیا کہ طلاق دو، اور طلاق نامہ بنواکر زید سے دستخط نشان /انگوٹھا لگوا لیا، دستخط کرتے وقت زید کے ذہن میں یہ تھا کہ ایک طلاق کا پیپر ہے، اور اس وقت زید کی نیت بھی ایک طلاق کی تھی ،زید نے بغیر پڑھے اور بغیر دیکھے پیپر پر دستخط کر دیے ، اس جگہ روشنی بھی کم تھی، دستخط کرنے کے بعد زید کے پوچھنے پر اس کے والد نے بتایا کہ یہ پیپر تین طلاق کے تھے ، زید نے اپنی زبان ، اپنے ذہن ، اپنے ارادہ سے کوئی طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے , کیا زید کی طرف سے طلاق ہو گئی ؟ یا زبان سے بھی طلاق کے الفاظ ارادہ کے ساتھ کہنا ضروری ہے ؟ طلاق نامہ کے دستخط کی کیا حیثیت ہے؟
مسمی زید کو اگر یہ معلوم تھا، کہ یہ طلاق نامہ ہے، جس پر مجھ سے دستخط کرائے جارہے ہیں ،اگر چہ ان کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس میں کتنی طلاقیں لکھی ہوئی ہیں، تب بھی اس طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے اس میں درج تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دو بارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ عقدِ نکا ح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما في الشامية :تحت (قوله كتب الطلاق إلخ) قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة. فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته (إلى قوله) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم بنو الخ (ج 3 / ص 246)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0