سیاسی مسائل

سیاست کے لئے موجودہ جمہوری نظام میں شمولیت کا حکم

فتوی نمبر :
38449
| تاریخ :
0000-00-00
معاملات / حکومت و سیاست / سیاسی مسائل

سیاست کے لئے موجودہ جمہوری نظام میں شمولیت کا حکم

ایک طرف ہمارے لئے آیت ہے کہ {هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ (9) } [الزمر: 9، 10]آپ کہہ دیں کیا علم والے اور بے علم برابر ہو سکتے ہیں؟ یقیناً نصیحت وہی حاصل کرتے ہیں جو عقلمند ہوں" اور دوسری طرف ہمارا جمہوری طرزِ حکومت، جس میں ان پڑھ،جاہل کے ووٹ کی اتنی ہی اہمیت ہے جتنی کسی مولانا، کسی عالم، سائنسدان ، جج، پروفیسر ، کسی پی ،ایچ،ڈی ڈگری ہولڈر کے ووٹ کی , (پی ،ایچ،ڈی ڈگری کا نام میں نے بطورِ مثال، اعلی تعلیم یافتہ افراد کو ظاہر کرنے کے لئے لکھا ہے) قرآن کے مطابق ان پڑھ لوگ، پڑھے لکھے لوگوں کے برابر (فیصلہ کرنے کے معاملات میں) نہیں ہوسکتے، تو ہمارا نظام انہیں کیوں ووٹ کے ذریعے فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے ؟ کیا ہم اس جمہوری نظام کا حصہ بن کر اللہ پاک کے احکامات کی نافرمانی کر رہے ہیں؟ براہِ کرم اس ضمن میں راہنمائی فرمائیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جمہوریت کے موجودہ نظام میں اگر چہ سوال میں مذکور خرابیوں سمیت بہت ساری خرابیاں ہیں مگر اس وقت مسلم ممالک میں یہ نظام رائج ہو چکا ہے اور اس سے بالکلیہ کنارہ کشی اور اہل باطل کیلئے میدان خالی چھوڑ دینا اسلام اور اہلِ اسلام کے مفاد میں معلوم نہیں ہوتا بلکہ نظامِ جمہوریت میں شامل ہو کر اسلام اور شعائر اسلام کی حفاظت کی کوشش کرنا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے ورنہ ایسے نازک حالات میں جبکہ لوگ مغربیت پسند ہو رہے ہیں , اسلام پسند لوگ جمہوریت میں حصہ نہیں لیں گے تو صرف مغرب پسند نمائندے سامنے آئیں گے اور ایسے لوگوں کا قوم پر مسلط ہو جانا یقیناً اسلام کے حق میں زیادہ خطرناک ثابت ہو گا ، اسی خطرے کے پیش نظر نظامِ اسلام کے نفاذ کیلئے کوششوں کے ساتھ تقلیل اور دفع شر کے لئے اس نظام کا حصہ بننے میں حرج نہیں تا کہ مسلمانوں کے ایمان و عمل کی کچھ نہ کچھ حفاظت کے ساتھ ان کو مایوسی سے بچایا جاسکے ، اور قاعدہ یہی ہے کہ اگر دو مفاسد جمع ہو جائیں اور ان میں سے ایک کا نقصان زیادہ اور دوسرے کا کم ہو تو "اہون البلیتین" پر عمل کرتے ہوئے کم نقصان والی صورت کو اپنا نا ضروری ہے، لہٰذا آج کل کے دور میں بھی چونکہ فی الوقت مجبوری کی وجہ سے جمہوریت کو چھوڑ دینے کا نقصان زیادہ ہے اس لئے اس میں حصہ لے کر اسلام کی حفاظت کرنا ضروری ہے، نیز اگر کوئی نظامِ شریعت نافذ ہونے تک اسلام کی حفاظت کی غرض سے جمہوری نظام اور ووٹ میں حصہ لے گا تو اس کا یہ فعل تعاون علی المعصیت نہیں بلکہ تعاون علی البر ہوگا اور انشاء اللہ اسلام کو زندہ کرنے اور اس پر فتن دور میں اس کی حفاظت کرنے کی نیت سے بہتر نمائندوں کا انتخاب میں حصہ لینا ثواب کا باعث ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في فتاوى اللجنة الدائمة للبحوث العلمية والإفتاء: لا يجوز للمسلم أن يرشح نفسه رجاء أن ينتظم فی سلك حكومة تحكم بغير ما أنزل الله، وتعمل بغير شريعة في الإسلام، فلا يجوز لمسلم أن ينتخبه أو غيره ممن يعملون في هذه الحكومة، إلا إذا كان من رشح نفسه من المسلمين ومن ينتخبون یرجون بالدخول في ذلك أن يصلوا بذلك إلى تحويل الحكم إلى العمل بشريعة الإسلام، و اتخذوا ذلك وسيلة إلى التغلب علی نظام الحکم علی الا یعمل من رشح نفسہ بعد تمام الدخول الا فی مناصب لا تتنافی مع الشریعہ الاسلامیہ(23/604)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38449کی تصدیق کریں
0     745
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • ووٹ کے ذریعہ منتخب نمائندہ کے افعال وکردارکی ذمہ داری ووٹرپر بھی عائدہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیاسی مسائل 0
  • ووٹ کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   سیاسی مسائل 0
  • جشنِ آزادی پر جھنڈا لہرانا - 14 اگست کوجھنڈا لگانےپرثواب ملے گا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیاسی مسائل 1
  • جمہوریت کا حکم

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 1
  • سیاست میں حصہ لینا

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 0
  • مذہبی جماعتوں کےاتحاد "متحدہ مجلسِ عمل" کے ساتھ تعاون کا حکم

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 0
  • مسلمانوں کے بادشاہ-حاکم اور عام مسلمانوں کے لۓ دین کے کس قدر علم کا حصول ضروری ہے؟

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 0
  • ظالم جماعت کی حمایت کا حکم

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 0
  • سیاست کے لئے موجودہ جمہوری نظام میں شمولیت کا حکم

    یونیکوڈ   سیاسی مسائل 0
Related Topics متعلقه موضوعات