ایک شخص نے تین ماہ کے وقفے کے لئے اپنی بیوی کو انجیکشن لگایا ،جس سے بیوی کی تین ماہ تک ماہواری نہیں ہوئی ،تین ماہ کے بعد علاج کے دوران اس خاتون کو ایک ماہ میں حیض کے سات ایام پورے ہونے کے بعد چار ہی دن پاکی کے گزرے تھے کہ دوبارہ حیض شروع ہوگیا ہے، اس صورت میں نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
۲۔ ایک خاتون کے شوہر نے اپنی بیوی کو دو لوگوں کی موجودگی میں کہا کہ "میں طلاق دیتاہوں، باقی دو بعد میں حق مہر دینے کے بعد دونگا"، اسی وقت اپنا فیصلہ بدل کر کہا کہ "نہیں میں ایک نہیں دو طلاق دیتاہوں اپنی بیوی کو باقی ایک طلاق حق مہر دینے کے بعد دونگا " اس کے چند منٹ بعد بزرگوں کی نصیحت سن کر اپنی بیوی سے رجوع کرلے اور صلح کرلے تو اس مسئلے کا شریعت میں کیا حکم ہے؟
(۱)۔ مذکور صورت میں چار دن پاکی کے بعد جو خون آیا وہ استحاضہ ہے اس کی وجہ سے نمازیں ساقط نہ ہوں گی، بلکہ ہر نماز کے وقت وضو کرکے نماز پڑھنا لازم ہے۔
(۲)۔ شخص مذکور نے جب ایک مرتبہ دو لوگوں کی موجودگی میں یہ کہاکہ "میں ایک طلاق دیتاہوں" تو اس سے ایک طلاق رجعی واقعی ہوگئی تھی، اس کے بعد اس فیصلے سے رجوع کرنا ممکن نہ تھا، لہٰذا جب اس نے پھر یہ کہا کہ ’’نہیں میں دو طلاق دیتاہوں تو اس سے مزید دو طلاقیں واقع ہوئیں اور مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب شوہر اپنی بیوی سے رجوع نہیں کرسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح کرسکتاہے؛ جبکہ عورت ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الهندیة: لو رأت الدم بعد اکثر الحیض والنفاس فی اقل مدة الطهر فما رأت بعد الاکثر ان کانت مبتدأة وبعد العادة ان کانت معتادة استحاضة اھ (۱/ ۴۲)
وفی الدر المختار: (دم استحاضة) حکمه (کرعاف دائم) وقتا کاملا (لا یمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحدیث توضئی وصلی وإن قطر الدم علی الحصیر. اھ (۱/ ۲۹۸)
وفی رد المحتار تحت (قوله لحدیث توضئ) فانه ثبت به حکم الصلاة عبارة وحکم الصوم والجماع دلالة اھ (۱/ ۲۹۸)۔
کما فی الهندیة: ولو قال للمدخولة: انت طالق واحدة لا بل ثنتین یقع الثلاث اھ (۱/ ۳۶۲)
وفی رد المحتار: وأما فی بل فی انت طالق واحدة لا بل ثنتین (الٰی قوله) ولو کانت مدخولا بها تقع لانه اخبر انه غلط فی ایقاع الواحدة ورجع عنها الی ایقاع الثنتین بدلها فصح ایقاعهما دون رجوعه اھ (۳/ ۲۸۸)
وفی الدر المختار: (الصریح یلحق بالصریح) ویلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن یلحق الصریح) الصریح ما یحتاج الی نیة بائنا کان الواقع به او رجعیا فتح اھ (۳/ ۳۰۹)
وفی الهدایة: وان کان الطلاق ثلثا فی الحرة او ثنتین فی الامة لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیره نکاحا صحیحا ویدخل بها ثم یطلقها أویموت عنها والاصل فیه قوله تعالٰی ﴿فان طلقها فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجا غیره﴾ اھ (۲/ ۳۹۹) واللہ اعلم بالصواب
مانعِ حیض ادویات کے استعمال کےباوجود خون آجائے تو نماز وغیرہ کا حکم
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 1محرم عورت سے(العیاذ باللہ) زنا کا حکم-حیض سے پاکی کے بعد استنجا کا طریقہ
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0زیورات اُتارنے کے بعد دورانِ غسل ناک اور کان کے سوراخوں میں خلال کرنا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0مخصوص ایّام میں اُوڑھے ہوئے دوپٹہ سے قرآن کو پکڑنا جائز ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0ایامِ حیض (عورتوں کی ناپاکی کے مخصوص ایام)میں،معلمہ یا طالبہ کا قرآن پڑھنا پڑھانا
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0رمضان میں بچہ کی ولادت کے بعد دس دن خون آئے تو باقی ایّام کے روزے رکھ سکتی ہے یانہیں؟
یونیکوڈ خواتین کے مخصوص مسائل 0