السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس وقت پوری دنیا میں ترسیل زر کی سب سے بڑی کمپنی پے پال کے نام سے کام کر رہی ہے، جس میں مختلف طرح کی آن لائن سروسز ترسیل زر کی دی جاتی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اگرکوئی اس میں کچھ رقم انویسٹ کرتا ہے تو اسے یومیہ منافع بھی دیا جاتا ہے، اور اگر یہ انویسٹر یا ممبر کسی اور کو ترغیب دے کر اس کا اکاؤنٹ بنوائے تو اس پر بھی اس سے کمیشن دیا جاتا ہے، اس کمپنی کے حوالے سے فرمائیں کہ کیا اس کمپنی کے ذریعے آن لائن کا م کرنے یا اس کمپنی میں پیسے انویسٹ کر کے منافع کمانا یا آگے ممبرشب کرواکے کمیشن کمانا کیسا ہے؟
ہماری معلومات کے مطابق پر پال کمپنی کا اصل کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے،ایڈز دیکھ کر کمائی کرنا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مار کیٹنگ میں ہو) جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
(1)ایڈز دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسےاجارہ کا معقود علیہ قرار دیا جاسکے، اور ایڈز دیکھنےوالے ممبر کو اس پر اجرت کا مستحق ٹھہرایا جاسکے۔
(2)بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
(3)مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھا یا جاتا ہے، جو کہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔
(4)مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے، جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو، لہذا خود اس کمپنی کا ممبر بننا ا ور کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الدرا لمختار: (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء الخ (6/4)۔
و فی ردالمحتار: تحت (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل. الخ (6/4)۔
و فی البدائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. الخ (6/59)۔
و فی فقہ البیوع: ان کان بیع المنتج مشروطا بأن یدخل المشتری فی شبکة التسویق، فھذا البیع فاسد، لاشتراط ما لایقتضیہ العقد الخ (2/812)۔