علم غیب کے بارے میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں اور قرآن میں ہے جس کا مفہوم ہے "کہ اللہ کی یہ شان نہیں کہ عام لو گو ں کو غیب کا علم دے وہ چن لیتا ہے اپنے رسولوں میں سے جسے چاہے،اس کی مستند تفسیر کی روشنی میں ، وضاحت فرمائیں ۔
غیب کا کلی طور پر علم صرف اور صرف اللہ پاک کو حاصل ہے اور انبیاء علیہ السلام پہلے یا بعد کی جو باتیں بتایا کرتے ہیں، وہ اس بنا پر کہ اللہ پاک کی طرف سے وحی کے ذریعے سے انکو اطلاع کر دی جاتی ہے اور ایسی اطلاع کو شریعت مطہرہ کی روشنی میں غیب کلی نہیں کہا جاتا کیونکہ وہ بغیر کسی کے بتانے اور بغیر کسی واسطہ اور ذریعہ کے ہوتا ہے بلکہ یہ محض انباء الغیب ہیں اور یہ اسلئے تاکہ یہ تمام چیزیں نبوت صادقہ پر دلالت اور ان کے لئے معجزہ ہو ں جب کہ مذکور آیت کی تفسیر اور مسئلہ علم غیب کی مکمل تفصیل کیلئے "ازالۃ الریب عن مسئلۃ علم الغیب " مؤلفہ حضرت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب " ملاحظہ ہو ۔
وفي القرطبي : قال العلماء لما تمدح سبحانه بعلم الغيب واستاثربه دون خلقه كان فيه دليل على انه لا يعلم الغيب احد سواہ ثم استثنى من ارتضاه من الرسل فاودعهم ما شاء من غيبه بطريق لهم معجزة لهم ودلالة صادقة على نبوتھم اھ (10/22)