میں نے پر پال کمپنی جو کہ ایڈور ٹائزمنٹ کمپنی ہے ،میں تقریباً ایک لاکھ روپے انویسٹ کیا ہے ، ان ایک لاکھ روپے میں میں نے ایڈ پیکج لینا ہوتا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر پانچ ایڈ دیکھنے پڑتے ہیں، جس میں کوئی فحش یا جاندار وغیرہ کی تصویر نہیں ہوتی، اور کمپنی مجھے روزانہ تقریباً پانچ سو روپے جو کہ کم یا زیادہ بھی ہو سکتےہیں ، ہمیں معاوضہ کے طور پر دیتی ہے اور اگر ہم یہ ایڈ نہ دیکھیں تو نہ صرف ہمیں معاوضہ نہیں ملے گا، بلکہ اصل رقم میں بھی کٹوتی ہو گی یہ ایک لاکھ روپے جو میں نے انویسٹ کیا ہیں، میں اپنی مرضی سے نہیں نکلوا سکتا ،بلکہ روزانہ کی بنیاد پر منافع کے ساتھ پندرہ ماہ تک کمپنی ادا کرتی رہے گی۔ اس کمپنی میں نئے ممبر بھی بنائے جاسکتے ہیں، مجھے ایک نیا ممبر بنانے پر کمپنی کمیشن بھی دے گی، وہ نئے ممبر جب ایک مزید ممبر بنائے گا تو اس کا کمیشن اس کے علاوہ مجھے بھی دیا جائے گا اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا جائے گا۔ کیا سوال میں مندرجہ بالا صورت جائز ہے ؟
کمپنی کے تعارف اور طریقۂ کاروبار میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کمپنی کا بنیادی کاروبار جس کے لئے وہ لوگوں کو ممبر بننے کی دعوت دیتی ہے، وہ اشتہارات دیکھ کر پیسے کمانا ہے (چاہے ممبر شپ انویسٹمنٹ میں ہو یا نیٹ ورک مارکیٹنگ میں)، جس میں شرعی اعتبار سے کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، مثلاً:
۱۔ اشتہارات دیکھنا کوئی ایسا عمل نہیں جسے اجارہ کا معقود علیہ قرار دے کر ایسے ممبر کو اجرت کا مستحق قرار دیا جا سکے۔
۲۔ بہت سے اشتہارات غیر شرعی امور پر بھی مشتمل ہوتے ہیں۔
۳۔ مصنوعی طریقہ سے ویورز کی تعداد کو بڑھا کر دکھایا جاتا ہے ، جو کہ دھو کہ دہی کے زمرہ میں آتا ہے۔
۴۔ مذکور کمپنی کے ساتھ کاروبار کی خرابی اس وقت اور بھی بڑھ جاتی ہے ، جبکہ اس میں نیٹ ورک مارکیٹنگ بھی پائی جاتی ہو۔ لہذا ان وجوہات کی بناء پر خود اس کمپنی کا ممبر بننا یا کسی دوسرے کو اس کا ممبر بننے کی دعوت دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار: (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض) حتى لو استأجر ثيابا أو أواني ليتجمل بها أو دابة ليجنبها بين يديه أو دارا لا ليسكنها أو عبدا أو دراهم أو غير ذلك لا ليستعمله بل ليظن الناس أنه له فالإجارة فاسدة في الكل، ولا أجر له لأنها منفعة غير مقصودة من العين بزازية وسيجيء اھ (6/ 4)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله مقصود من العين) أي في الشرع ونظر العقلاء، بخلاف ما سيذكره فإنه وإن كان مقصودا للمستأجر لكنه لا نفع فيه وليس من المقاصد الشرعية، وشمل ما يقصد ولو لغيره لما سيأتي عن البحر من جواز استئجار الأرض مقيلا ومراحا، فإن مقصوده الاستئجار للزراعة مثلا، ويذكر ذلك حيلة للزومها إذا لم يمكن زرعها تأمل اھ (6/ 4)۔
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح. (6/ 59)۔
و في فقه البيوع :ان كان بيع المنتج مشروطاً بان يدخل المشترى في شبكة التسويق فهذا البيع فاسد لاشتراط ما لا يقتضيه العقد اھ (812/2)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0