السلام علیکم! آج نمازِ عشاء میں امام صاحب قرأت میں بھولے تو پیچھے سے تین لوگوں نے لقمہ دیا جہاں تک مجھے یاد ہے فرض نماز میں لقمہ تب دیا جا سکتا ہے،جب امام کی طرف سے ایسی غلطی ہو جائے جو کفریہ کلمات ادا ہوتے ہیں، مہربانی کر کے درست اور جلد آگاہی دیں۔
امام اگر قرأت میں کوئی غلطی کرے خواہ اس سے معنیٰ میں تبدیلی آئی ہویا نہ آئی ہو، معنیٰ کی تبدیلی حدِ کفر تک پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو بہرحال صورت اسے لقمہ دینا جائز ہے،جبکہ امام کو بھی چاہیے کہ اگر وہ مقدار فرض قرأت کر چکا ہو تو رکوع میں چلا جائے۔
ففی الدر المختار: (بخلاف فتحه على إمامه) فإنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح وآخذ بكل حال اھ (1/ 622)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله بكل حال) أي سواء قرأ الإمام قدر ما تجوز به الصلاة أم لا، انتقل إلى آية أخرى أم لا تكرر الفتح أم لا، هو الأصح (إلی قوله) أو يركع إذا قرأ قدر الفرض اھ (1/ 622) واللہ أعلم بالصواب!
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0