کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ہمارے یہاں ایک قبرستان ہے جس کی زمین غیر موقوفہ ہے جس میں کچھ پرانی قبریں بھی ہیں، لیکن وہاں جانے کا کوئی راستہ نہیں ہے اور راستہ ملنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی کیونکہ اس کے ارد گرد کافروں کی زمین ہے اسی وجہ سے اس کا استعمال بالکل ہی معدوم ہے, تو کیا ایسی زمین کو بیچ کر اس کی رقم مسجد کی تعمیر میں لگاسکتے ہیں؟ یا اس کے متبادل کسی دوسری جگہ زمین لے سکتے ہیں ؟ براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
مذکور قبرستان اگر واقعۃً غیر موقوفہ ہو اور اس کی قبروں پر اتنی مدت گزرگئی ہو کہ ان میں موجود مردوں کی ہڈیاں بوسیدہ ہو کر ریزہ ریزہ ہوچکی ہوں، تو اس زمین کے مالک کے لئے اس کو فروخت کرنا اور حاصل شدہ رقم کو اپنے استعمال میں لانا یا کسی کار خیر میں صرف کرنا شرعاً جائز اور درست ہے۔
کما فی الھندیۃ: ولو بلى الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه، كذا في التبيين.( الی قولہ) إذا دفن الميت في أرض غيره بغير إذن مالكها فالمالك بالخيار إن شاء أمر بإخراج الميت وإن شاء سوى الأرض وزرع فيها، كذا في التجنيس. الخ (1/167)۔