میں نے حجِ قران کا ارادہ کیا ہے اور اس کی تکمیل کے لیے میں 7 ذی الحجہ کو عمرہ اداکر لوں گا، میرا سوال یہ ہے کہ کیا میں نے طوافِ قدوم کرنا ہے یا نہیں؟ اور اس کے ساتھ صفا مروہ کی سعی کا بھی بتا دیں، نیزیہ بھی راہنمائی فرما دیں کہ طوافِ زیارت کرنے کے بعد صفا مروہ کی سعی کرنی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ آفاقی شخص کے لیے حجِ قرآن میں بھی طوافِ قدوم سنت ہے، اس لیے سائل کو عمرہ کرنے کے بعد طواف قدوم کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے ، جبکہ صفامر وہ کے درمیان سعی کر ناحج کے واجبات میں سے ہے، لیکن حج کرنے والے کے لیے طوافِ قدوم کے بعد یا طوافِ زیارت کے بعد جب چاہے سعی کرنے کا اختیار ہے ، لہذا اگر سائل نے طوافِ قدوم کے بعد سعی کرلی ہو تو پھر طوافِ زیارت کے بعد سائل کے ذمہ سعی لازم نہ ہو گی، البتہ اگر سائل نے طوافِ قدوم کے بعد سعی نہ کی ہو تو طواف زیارت کے بعد اس پر سعی کرنا لازم ہو گا۔
کما فی غنیة الناسک : ھو سنۃ للآفاقی المفرد بالحج والقارن اھ (108)۔
و فی الدر المختار : (ثم طاف للزيارة يوما من أيام النحر) الثلاثة بيان لوقته الواجب (سبعة)بيان للأكمل وإلا فالركن أربعة (بلا رمل و) لا (سعي إن كان سعى قبل) هذا الطواف (وإلا فعلهما) لأن تكرارهما لم يشرع اھ (2/517)۔
و فی الہندیة: ويأتي القارن بأفعال العمرة ثم يأتي بأفعال الحج كذا في محيط السرخسي فيطوف طواف القدوم سبعة أشواط و سعی کذا فی الهداية اھ (1/237)۔