السلام علیکم،
آج کل ایک جملہ بہت لوگ لکھتے بھی ہیں اور ایدھی صاحب سے منسوب بھی کرتے ہیں-
No Religion is higher than Humanity.
کیا یہ جملہ کہنا درست ہے کیوں کے اس دور فتن میں بہت سے ایسے الفاظ یا جملے بظاہر تو اچھے اور صحیح لگتے ہیں لیکن اصل میں ان میں چھپی شیطانی قوتوں کی سازش کا پتہ نہیں ہوتا۔مہربانی فرما کر اصلاح فرمائیں۔
واضح کو انسان کی مختلف حیثیات ہیں، پہلی حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک ذی روح ہونے کے اعتبار سے حیوان اور جاندار ہے، یہ کم درجہ کی حیثیت ہے، دوسری یہ کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کی نسل اور ذریت ہونے کے اعتبار سے بنی نوع انسان سے تعلق رکھتا ہے،جو دوسرے حیوان سے اسے ممتاز کرتا ہے، اور یہ حیوانیت کے بعد دوسرا اور درمیان درجہ اور حیثیت ہے، اور تیسری حیثیت یہ ہے کہ وہ کائنات کے سردار اور انکی تعلیمات پر ایمان لاکر انکے امتی ہونے کی حیثیت ہے، جسے مسلمان سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو انسان کا معراج ہے، اور یہ تیسرا اور اعلی درجہ ہے، اس لئے کسی شخص کا یہ کہنا " کہ کوئی مذہب انسانیت سے بلند نہیں " دین سے ناواقفیت اور انسان کے حقیقی مقام سے لاعلمی پر مبنی ہے، لہذ اس قسم کے جملے بولنے سے اجتناب چاہیئے۔