السلام علیکم جناب مفتی صاحب !
کیا مسلمان کی میت کو غسل سے پہلے ہاتھ یا لباس چھونے سے ہم پر بھی غسل لازم ہوتا ہے؟ مہربانی فرما کر جواب سے مطلع فرمائیں ۔
غسل دینے سے قبل میت کو ہاتھ لگانے یا اس کے لباس کو چھونے سے غسل لازم نہیں ہوتا، البتہ جو شخص میت کو غسل دے , اس کے لئے غسل دینے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے ۔
في حاشية ابن عابدين : في فتح القدير : و قد روي في حديث أبي هريرة «سبحان الله إن المؤمن لا ينجس حيا و لا ميتا» (إلی قوله) و قد أخرج الحاكم عن ابن عباس - رضي الله عنهما - قال قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - «لا تنجسوا موتاكم فإن المسلم لا ينجس حيا أو ميتا» اھ (2/ 194)-
و في الفقه الإسلامي و أدلته : و يستحب عند الجمهور لمن غسل ميتاً أن يغتسل بعد فراغه من غسله ، لما روى أبو هريرة أن النبي صلّى الله عليه وسلم قال : «من غسل ميتاً فليغتسل» اھ (2/ 608)-
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1