ایک عالم دین ایسے مجمعے میں بیان کرتے ہیں کہ جس میں مرد اور خواتین اکٹھے بیٹھے ہیں ؟ اس عمل کی شریعت میں کیا حیثیت ہے ؟ اور ایسے درس میں شرکت کرنا کیسا ہے ؟
مردوں عورتوں کا مخلوط اجتماع تو نا جائز ہے ، اس لئے کسی جگہ عالم دین کا بیان رکھوانے والے انتظامیہ کو چاہیے کہ مخلوط اجتماع کے بجائے خواتین کی نشست گاہیں بالکل الگ رکھنے کا اہتمام کریں، تاہم اگر انتظامیہ نے اس سلسلہ میں شرعی حدود کا خیال رکھے بغیر مخلوط اجتماع میں بیان کی ترتیب بنادی ہو اور بیان کرنے والے عالم دین کے اختیار میں مردوں عورتوں کے نشستوں کو الگ کرنا ممکن نہ ہو تو اگر چہ اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا، لیکن دینی موضوعات پر گفتگو کے لئے منعقدہ تقاریب میں شرعی حدود کی پاسداری کرنا از حد ضروری ہے ورنہ گفتگو کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہو گا۔
ففي صحيح مسلم: عن جابر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا لا يبيتن رجل عند امرأة ثيب، إلا أن يكون ناكحا أو ذا محرم» اھ (4/ 1710)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله زائدة) يبعده قوله في القنية رامزا ويجوز الكلام المباح مع امرأة أجنبية اهـ و في المجتبى رامزا، و في الحديث دليل على أنه لا بأس بأن يتكلم مع النساء بما لا يحتاج إليه، وليس هذا من الخوض فيما لا يعنيه إنما ذلك في كلام فيه إثم اهـ فالظاهر أنه قول آخر أو محمول على العجوز تأمل، وتقدم في شروط الصلاة أن صوت المرأة عورة على الراجح ومر الكلام فيه فراجعه اھ (6/ 369) واللہ اعلم بالصواب