السلام علیکم مفتی صاحب!
اگر کوئی شخص مدرسے کے پیسوں پر کاروبار کرتا ہو اور منافع آدھا مدرسے کو اور آدھا خود لیتا ہو تو کیا یہ جائز ہے؟
مدرسہ کے پیسے مہتمم ومتولی کے پاس امانت ہوتے ہیں، کیونکہ مہتمم چندہ دہندگان اور طلباء کا وکیل ہے،بہر حال وکیل کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ امانت کی رقم سے تجارت کرے،اگرچہ اس میں بظاہر مدرسہ کی منفعت نظر آتی ہو، اس تجارت کے نتیجے میں اگر مدرسہ کے پیسوں کا نقصان ہوجائے تو مہتمم اس نقصان کا ضامن ٹھہرے گا۔
کمافی بدائع الصنائع: (ومنها):أن المقبوض في يد الوكيل بجهة التوكيل بالبيع والشراء وقبض الدين والعين وقضاء الدين - أمانة بمنزلة الوديعة، لأن يده يد نيابة عن الموكل بمنزلة يد المودع، فيضمن بما يضمن في الودائع، ويبرأ بما يبرأ فيها، ويكون القول قوله في دفع الضمان عن نفسه اھ(6/34)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0