السلام علیکم :آپ سے التماس ہے کہ میرے معاملہ میں رہنمائی فرمائیں، میری ملکیت میں ایک مکان ہے جوکہ میرے والد نے مجھے گفٹ کیا تھا(میرے والد کا انتقال ہوگیا ہے ) اب میں اپنی وصیت لکھوانا چاہتی ہوں، شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،میری کل چھ (6) اولاد ہیں ,پہلے شوہر سےدو بیٹے اور ایک بیٹی ,دوسرے شوہر سے تین بیٹے ہیں جن میں سے ایک کا انتقال ہوچکاہے (مرحوم کے بچے موجود ہیں)جو مکان میری ملکیت ہے، اس کو میں اپنی بیٹی ،دو بیٹوں اور مرحوم بیٹے کے بچوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہوں رہنمائی فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق سائلہ کو ان کے والد مرحوم نے اپنی زندگی میں مذکور مکان اگر واقعۃً باقاعدہ مالکانہ قبضے کے ساتھ گفٹ کیا ہو تو اس سے شرعاً سائلہ اس مکان کی مالک بن چکی ہے ، اور شرعاً ہر شخص کو اپنی زندگی میں اپنے مال و جائیداد میں ہر قسم کا تصرف کاحق حاصل ہوتا ہے ،وہ اس میں جس طرح چاہے تصرف کر سکتا ہے، اس کے ذمہ اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے در میان مال و جائیداد تقسیم کرنا لازم نہیں ،اور نہ ہی کسی بیٹے یا بیٹی کو اسمیں حصہ داری کے مطالبہ کا حق حاصل ہے،البتہ اگر وہ شخص اپنی مرضی سے اپنی اولاد کے در میان اپنا مال و جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو شرعاً ایسا کرنا بھی جائز اور درست ہے،مگر یہ تقسیمِ ترکہ نہیں بلکہ ہبہ اور گفٹ کہلاتی ہے ،لہذا مذکور مکان اگر واقعۃً سائلہ کی ذاتی ملکیت ہو ، تو سائلہ کی زندگی میں اس کے کسی بھی بیٹے ، بیٹی کے لئے اس میں حصہ داری کے مطالبے کاحق حاصل نہیں ،اور نہ ہی سائلہ کےذمہ اپنے بچوں کے درمیان یہ مکان تقسیم کرنا لازم اور ضروری ہے، البتہ اگر سائلہ اپنی مرضی و خوشی سے اپنی زندگی میں اپنا مال وجائیداد اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے، تو شرعاً یہ بھی جائز اور درست ہے ، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سائلہ اپنی بقیہ زندگی کے لئےمحتاط اندازے کے مطابق جو کچھ رکھنا چاہے ،وہ رکھ کر اور مرحوم بیٹے کی بچوں کو جو کچھ دینا چاہے وہ دیکر بقیہ مال و جائیداد اپنی تمام اولاد (بیٹوں اور بیٹیوں) میں برابر تقسیم کر کے ہر فرد کو اسکے حصے پر باضابطہ مالکانہ قبضہ بھی دیدے ،تاکہ یہ ہبہ اور گفٹ شرعاً بھی درست اور تام ہو جائے، محض کاغذات میں نام کر دینا یا زبانی کلامی دینا کافی نہیں،پھر بہتر اور افضل یہ ہے کہ ہبہ اور اعطاء میں سب(اولاد) کو برابر یکساں رکھے، کسی کو کم کسی کو زیادہ نہ دے کہ سب ہی اسکی اولاد ہیں، تا ہم اگر کسی بیٹے، بیٹی کی خدمت گزاری، دینداری وغیرہ کی بنا ءپر اسے دوسری اولاد کے مقابلے میں زیادہ دینا چاہے، تو شرعاً اسکی بھی اجازت ہے، مگر بلا وجہ کسی وارث کو اپنی جائیداد سے بلکل محروم نہ کرے کہ یہ گناہ ہے۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ : لا يثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختارهكذافي الفصول العماديةاھ(1/378)۔
و فی الشامیۃ: فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا و الوقف عطية فيسوي بين الذكر و الأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة و في الخانية و لو وهب شيئا لأولاده في الصحة، و أراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين و إن كانوا سواء يكره و روى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم و عليه الفتوى و قال محمد: و يعطي للذكر ضعف الأنثى۔(4/444)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0