میرا سوال یہ ہے کہ مجھے UBL کے کال سنٹر میں جاب کی پیشکش مل رہی ہے، جس میں کسٹمر کے لئے سوالات اور مسائل کا حل بتانا ہوتا ہے، جس کو ایک مڈل کمپنی چلا رہی ہے ، اور دو (2) سال کی مدت کے بعد پکا ملازم بنا دیتے ہیں بینک کا، جس کے فوائد سرکاری نوکری کے برابر ہوتے ہیں، میں معذور ہوں، اور سرکاری نوکری مجھے نہیں مل رہی ، کیا میں یہ نوکری کر سکتا ہوں ؟ اورکیا یہ میرے لئے جائز ہے ؟
سائل کیلئے بینک کے کال سینٹر میں ملازمت اختیار کرنے اور اس پر ملنے والی تنخواہ کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔
وفي التنزيل العزيز: ولا تعاونوا على الاثم والعدوان الآية (المائدة/2)۔
وفي تكملة فتح الملهم: ان التؤظف فى البنوك الربوية لا يجوز، فان كان عمل المؤظف في البنك ما يعين على الربا، كالكتابة أو الحساب، فذالك حرام لوجهين: الأول الإعانة على المعصية والثاني أخذ الاجرة من مال الحرام، فان معظم دخل البنوك حرام مستجلب بالربا، وأما إذا كان العمل لا علاقة له بالربا فأنه حرام للوجه الثاني فحسب، فإذا وجد بنك معظم دخله حلال، جاز فيه التؤظف للنوع الثاني من الأعمال والله اعلم اهـ (۱/619) ۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0