ایک شخص نے اپنی بیوی کی غیر موجودگی میں وکیل کے ذریعے اپنے بھائی اور والد کے سامنے یہ بول کر کہ میں اپنی بیوی سے آج کے بعد کوئی واسطہ رکھنا نہیں چاہتا اور کوئی واسطہ نہیں ہےاور میں اپنے سارے واسطے ختم کرتا ہوں اور میں اپنے ہوش و حواس میں اقرار کرتا ہوں میرا کوئی واسطہ نہیں ہے، یہ کہ کر ایک اسٹامپ پیپر پراپنے دستخط کیےاور طلاق نامہ اپنی بیوی کو ارسال کیا اور تقریباً 38 دن بعد لڑکے لڑکی نے بغیر حلالہ کیے ایک دوسرے سے رجوع کیا ایک اسٹامپ پیپر پر راضی نامہ کر کے ساتھ رہے رہ ہیں، کیا ان کا ایک دوسرے کے ساتھ رہنا درست ہے؟یا گناہ ہے، لہذا اس کی راہ نمائی فرمائیں اور اصلاح کی جاۓ اور فتوا جاری کیا جاۓ تاکہ مزید گناہ سے بچا جاۓ اور اسلام اور حضور ﷺ کے بتاۓہوۓ طریقے کے مطابق زندگی گزاری جاۓ۔
شخص مذکورکے طلاق اور اس کا بیوی کے ساتھ رہنے سے متعلق اس وقت تک حکم شرعی بیان نہیں کیاجاسکتا، جب تک کہ طلاق نامہ میں درج الفاظ اور پوری صورت حال خود ان کے زبانی معلوم نہ ہو، اس لیے انہیں چاہیے کہ کسی قریبی دارالافتاء سے رابطہ کرکے حکم شرعی معلوم کرکے اسی کے مطابق عمل کریں، اور اگرسائل یا کسی اور کو اس بات کا علم ہو کہ انہوں واقعۃ طلاق نامہ کے ذریعہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہے، اور اس کے باوجود بھی وہ اپنی بیوی کے ساتھ حرام زندگی بسرکررہاہے، تو سائل سمیت علاقے کے دیگرمعزز لوگوں کو چاہیے کہ پہلے پوری صورت حال کی تحقیق کرکے اس کے بعد اس کے بڑوں سے بات کریں اور انہیں سمجھائیں، کہ اس طرح ناجائز طریقہ پر دونوں کا زندگی گزارنا شرعاجائز نہیں۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0