السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ جب میت گھر میں موجود ہوتی ہے تو اکثر لوگ بیج یا دانوں پر کلمے پڑھ رہے ہوتے ہیں یا کلام پاک پڑھ رہے ہوتے ہیں تو کیا یہ صحیح ہے اس طرح سے پڑھنا یا غلط؟ اگر غلط ہے تو صحیح طریقہ کار شریعت کی رو سے بتائیے۔
۲۔ جس چارپائی میں میت کو لے کر جاتے ہیں، اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ کلمے والی ہَری چادر یا کالی چادر اس چارپائی کے اوپررکھ کر قبرستان لے کر جاتے ہیں، کیا اس چادر کی کوئی فضیلت ہے یا نہیں؟ یا سفید چادر جنازہ کے اوپر رکھی جائے، خواہ وہ میت عورت کی ہو یا مرد کی؟
۳۔ میت کو لے کر جاتے وقت لوگ کلمہ شہادت کی آواز بلند کرتے ہیں، کیا یہ عمل صحیح ہے؟ ایک عام مسلمان کےلیے جو طبعی موت مرا ہو، اور جنازہ لے جانے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
۱۔ جی ہاں! مذکور طریقہ اختیار کرنے کی شرعاً اجازت ہے، البتہ میت جس کمرے میں ہو اس کے علاوہ دوسرے کمرے میں تلاوت کا اہتمام کیا جائے، جبکہ میت کو غسل دینے کے بعد میت کے پاس پڑھنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
۲۔ مذکور چادر کی کوئی فضیلت منقول نہیں، بلکہ اس میں کلماتِ متبرکہ کی توہین کا شائبہ ہونے کی بناء پر اس سے احتراز ہی کیا جائے اور اگر سفید چادر اوپر رکھی جائے تو زیادہ بہتر ہے۔
۳۔ میت کو قبرستان کی طرف لے جانے کا مسنون اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ سب لوگ سکون اور خاموشی کے ساتھ جنازہ کے پیچھے چلیں۔ جنازہ کے آگے چلنا اور بلند آواز سے کلمہ طیبہ یا کلمہ شہادت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، اس سے احتراز لازم ہے، تاہم ہر شخص اپنے دل میں ذکر یا دعائے مغفرت کرتا ہوا جائے تو یہ جائز ہے۔
ففی اعلأالسنن: عن معقل بن يسار قال قال رسول اللہ - صلى الله عليه وسلم - : «إقرأوا يٰسین علی موتاکم». رواه رواه ابوداود اھ (۸/۱۷۳)
وفی سنن ابن ماجه:عن أبي الدرداء قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «إن أحسن ما زرتم الله به في قبوركم، ومساجدكم، البياض» (2/ 1181)۔
وفی مسند أحمد:عن ابن عباس قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "خير ثيابكم البَياض، فالبَسُوها أحياءً، وكفِّنوا فيها موتاكم، (3/ 417)
وفیه أیضاً: عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْبَسُوا الثِّيَابَ الْبَيَاضَ فَإِنَّهَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ، وَكَفِّنُوا فِيهَا مَوْتَاكُمْ»(33/ 354)
وفی الفتاوى الهندية:وعلى متبعي الجنازة الصمت ويكره لهم رفع الصوت بالذكر وقراءة القرآن، كذا في شرح الطحاوي، فإن أراد أن يذكر الله يذكره في نفسه، كذا في فتاوى قاضي خان. (1/ 162)
وفی حاشية ابن عابدين: وينبغي لمن تبع الجنازة أن يطيل الصمت. وفيه عن الظهيرية: فإن أراد أن يذكر الله - تعالى - يذكره في نفسه {إنه لا يحب المعتدين} [الأعراف: 55] أي الجاهرين بالدعاء.اهـ. (2/ 233)
وفیه أیضاً: تكره كتابة القرآن وأسماءالله - تعالى - على الدراهم والمحاريب والجدران وما يفرش، وما ذاك إلا لاحترامه، وخشية وطئه ونحوه مما فيه إهانة فالمنع هنا بالأولى ما لم يثبت عن المجتهد أو ينقل فيه حديث ثابت اھ (2/ 246،۲۴۷) واللہ أعلم بالصواب!
گھر میں میت کے ہوتے ہوئے قرآنِ کریم یا کلمے وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرنا
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0شادی شدہ عیسائی عورت کا اسلام قبول کرنے کے بعد کسی مسلمان سےنکاح کا حکم اور اس کا شرعی طریقہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 1قادیانی عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد ،کسی مسلمان سے نکاح کیلۓ توقف کا دورانیہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0زیارتِ قبور کے لۓ قبرستان جانے کے آداب ، نیز کن ایام میں جانا اولیٰ ہے؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0کیا نومسلمہ کے احکامِ اسلام پر عمل نہ کرنے سے ایمان ختم ہوجاتا ہے؟؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0