بخدمت جناب مفتی صاحب! السلام علیکم ور حمۃاللہ و برکاتہ
آپ سے ایک شرعی مسئلے کے بارے میں معلوم کرنا ہے، میرا نام بینش (اسلامی نام سونیا) ہے، پہلے میرا مذہب عیسائی تھا، میری شادی ۲۰۱۹ میں عیسائی لڑکے سے ہوئی تھی، میں نے ۱۰ جون ۲۰۲۲ کو اسلام قبول کیا اور ۸ اکتوبر ۲۰۲۲ کو جلیل اللہ نامی کے ساتھ اسلامی طریقے کے مطابق نکاح کیا ،میرا سوال یہ ہے کہ میرا یہ نکاح کرنادرست ہے یا نہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ جو عیسائی عورت اسلام قبول کرلے اور وہ کسی اسلامی ملک میں ہو ، تو ایسی صورت میں اس کا سابقہ نکاح ختم ہونے کے لۓ اس پر لازم ہے کہ وہ قاضی (جج) کے پاس اپنا دعوی دائر کرے اور قاضی اس کے دعویٰ کے مطابق شوہر پر اسلام پیش کرے ، اگر وہ اسلام قبول کر لیتا ہے تو ان کا نکاح بدستور قائم رہے گا اور دونوں میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتا تو قاضی ان کے درمیان تفریق کر دےگا، چنانچہ اس تفریق کے بعد جب عورت کی عدت مکمل ہو گی تو اس کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
لہٰذا سائلہ کا اسلام قبول کرنے کے بعد بذریعۂ عدالت اپنا نکاح فسخ کرانے سے قبل مسمی جلیل احمد کے ساتھ نکاح کر ناشر عاً درست نہ تھا، بلکہ اسے چاہیۓ کہ وہ مسلمان قاضی (جج) کی عدالت میں اپنا دعویٰ دائر کردے ، اور پھر قاضی (حج) شرعی طریقے کو بروئے کار لاتے ہوئے سائلہ کے شوہر پر اسلام پیش کر دے اور وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دے تو قاضی اس کے اور سابقہ عیسائی شوہر کے درمیان تفریق کر دے، چنانچہ اس کے بعد جب سائلہ کی عدت مکمل ہو جائے گی ، تو وہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی، جبکہ مسمی جلیل احمد کو اگر اس بات کا علم تھا کہ سائلہ کسی اور شخص کے نکاح میں ہے تو شرعاً سائلہ اور مسمی جلیل احمد کا نکاح منعقد ہی نہیں ہوا ۔
کما فی الدر المختار: (وإذا) (أسلم أحد الزوجين المجوسيين أو امرأة الكتابي عرض الإسلام على الآخر، فإن أسلم) فبها (وإلا) بأن أبى أو سكت (فرق بينهما اھ (3/ 188)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وأراد المصنف بالزوجين المجتمعين في دار الإسلام؛ وسيأتي محترزه في قوله ولو أسلم أحدهما ثمة إلخ (قوله أو امرأة الكتابي) أما إذا أسلم زوج الكتابية فإن النكاح يبقى كما يأتي متنا (قوله أو سكت) غير أنه في هذه الحالة يكرر عليه العرض ثلاثا احتياطا، كذا في المبسوط نهر (قوله فرق بينهما) وما لم يفرق القاضي فهي زوجته، حتى لو مات الزوج قبل أن تسلم امرأته الكافرة وجب لها المهر: أي كماله وإن لم يدخل بها لأن النكاح كان قائما ويتقرر بالموت فتح، وإنما لم يتوارثا لمانع الكفر اھ(3/ 189)۔
وفیه أیضاً: أما نكاح منكوحة الغير ومعتدته فالدخول فيه لا يوجب العدة إن علم أنها للغير لأنه لم يقل أحد بجوازه فلم ينعقد أصلا. قال: فعلى هذا يفرق بين فاسده وباطله في العدة، ولهذا يجب الحد مع العلم بالحرمة لأنه زنى كما في القنية وغيرها اهـ. (3/ 132)۔
گھر میں میت کے ہوتے ہوئے قرآنِ کریم یا کلمے وغیرہ پڑھنے کا اہتمام کرنا
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0شادی شدہ عیسائی عورت کا اسلام قبول کرنے کے بعد کسی مسلمان سےنکاح کا حکم اور اس کا شرعی طریقہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 1قادیانی عورت کے اسلام قبول کرنے کے بعد ،کسی مسلمان سے نکاح کیلۓ توقف کا دورانیہ
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0زیارتِ قبور کے لۓ قبرستان جانے کے آداب ، نیز کن ایام میں جانا اولیٰ ہے؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0کیا نومسلمہ کے احکامِ اسلام پر عمل نہ کرنے سے ایمان ختم ہوجاتا ہے؟؟
یونیکوڈ نو مسلم کے مسائل و احکام 0