کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پارہ نمبر ۷، رکوع نمبر۱۳، آیت نمبر۱۰۲ سے ۱۰۳ کا ترجمہ اور تفصیل بتائیے اور بتائیے کہ حضور کا وسیلہ دینا ٹھیک ہے یا کسی اورکا؟ کیابغیر وسیلہ کے اللہ تعالیٰ نہیں سنتے؟ قرآن اور حدیث سے وضاحت بیان کی جائے، کیاحضور اور دوسرے ولی قبر میں زندہ ہیں اور کیا وہ تمام لوگوں کی باتیں سنتے ہیں؟ تفصیل سے جواب دیں۔
مذکور آیت کی تشریح و تفسیر کے لیے معارف القرآن مصنفہ مفتی محمد شفیع عثمانی رحمہ اللہ ملاحظہ فرمائیں" اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی دعا سنتا اور قبول فرماتا ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ بعض لوگوں کی یا بعض طریقوں سے دعا زیادہ جلدی قبول ہوتی ہے۔ وسیلہ میں یہی چیز مطلوب ہوتی ہے، اس لیے اولیاء اللہ، صلحاء اور نبی کریمﷺ اور اعمالِ صالحہ کے وسیلہ سے دعا مانگنا بلاشبہ جائز اور صحابہ کرام و تابعین کے طرزِ عمل سے ثابت ہے، لہٰذا بایں طور کہ "اے اللہ نبی کریمﷺ کے واسطے میری دعا قبول فرما" دعا مانگنا جائز ہے۔
تمام انبیاء علیہم السلام اپنی قبور میں زندہ ہیں اور یہ حیات برزخی ہے جو کہ شہیدوں کی حیاتِ برزخی اور دنیوی حیات سے قوی تر ہے، جبکہ آپﷺ اپنی قبر کے پاس پڑھے جانے والے درود شریف کو بنفس نفیس خود سنتے ہیں اور دور سے پڑھے جانے والے درود آپﷺ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ البتہ عام مسلمین کے سماع کا مسئلہ قرونِ اولیٰ سے مختلف فیہ رہا ہے، بعض صحابہ سماع کے قائل تھے اور بعض عدمِ سماع کے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ جن مواقع میں روایاتِ صحیحہ سے سننا ثابت ہے وہاں پر سماع کا عقیدہ رکھا جائے اور جہاں ثابت نہیں، بلکہ دونوں احتمال ہیں وہاں توقّف کیا جائے۔
ففی تفسير روح المعاني: الأول أن التوسل بجاه غير النبي - صلّى الله عليه وسلّم - لا بأس به أيضا إن كان المتوسل بجاهه مما علم أن له جاها عند الله تعالى كالمقطوع بصلاحه وولايته اھ (3/ 297)
وفی المھند علی المفند: عندنا وعند مشائحنا یجوز التوسل فی الدعوات بالأنبیاء والصالحین من الأولیاء والشھداء والصدیقین فی حیاتھم وبعد وفاتھم، بأن یقول فی دعائه اللھم إنی اسئلك بفلان أن تجیب دعوتی وتقضی حاجتی إلی غیر ذلك اھ(۱۲، ۱۳)
وفی حاشية ابن عابدين: وأما الكلام فلأن المقصود منه الإفهام والموت ينافيه.
ولا يرد ما في الصحيح من «قوله - صلى الله عليه وسلم - لأهل قليب بدر هل وجدتم ما وعدكم ربكم حقا فقال عمر أتكلم الميت يا رسول الله، فقال - عليه الصلاة والسلام -: والذي نفسي بيده ما أنتم بأسمع من هؤلاء أو منهم» فقد أجاب عنه المشايخ بأنه غير ثابت يعني من جهة المعنى، وذلك لأن عائشة ردته بقوله تعالى: ﴿وما أنت بمسمع من في القبور﴾ (فاطر: 22)- ﴿إنك لا تسمع الموتى﴾ (النمل: 80)- (3/ 836) ـــــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0