کیا فرماتے ہیں علماءِ دین عذابِ قبر کے بارے میں ،کہ ایک شخص ہوائی جہاز میں سفر کررہا ہے اور وہ جہاز سمندر کے اوپر سفر کرتا ہے سفر کے دوران جہاز پھٹ گیا اور اس شخص کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا، کیا اس کے لئے قبر کا عذاب ہے یا نہیں ؟تفصیل سے جواب دیں۔ شکریہ
عذابِ قبر حق اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے، لیکن قبر سے مراد صرف وہ گھڑا نہیں جس میں میت دفن کی جاتی ہے بلکہ اس سے مراد عالمِ برزخ ہے (یعنی مرنے کے بعد سے قیامت تک کا زمانہ) اس زمانہ میں وہ جہاں بھی ہوگا اس کے ساتھ ثواب و عذاب کا معاملہ ہوگا۔
قال العلامۃ ابن القیم الحنبلی:
ومما ینبغی أن یعلم أن عذاب القبر ہو عذاب البرزخ فکل من مات وہو مستحق للعذاب نالہ نصیبہ منہ قبر أولم یقبر فلو أکلتہ السباع أو أحرق حتی صار رمادا ونسف فی الہواء أو صلب أو غرق فی البحر وصل الی روحہ وبدنہ من العذاب ما یصل الی القبور۔ اھـ (کتاب الروح: ص۷۱) واﷲ اعلم
کسی چیز پر اللہ کا یا کسی اور مذہب کا نام ظاہر ہوجانا، کیا اس مذہب کے حقانیت پر ہونے کی دلیل مان سکتے ہیں؟
یونیکوڈ توحید 0