کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا ایک دوست کہہ رہا تھا کہ ’’یزید‘‘ جنتی ہے، کیونکہ صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے، جس میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ ایک لشکر ہوگا جو سمندر کی جنگ لڑےگا، اس لشکر میں جو بھی شریک ہونگے وہ سب جنتی ہیں، اور یزید اس لشکر کے سپہ سالار تھے اس لیے وہ جنتی ہے،لیکن میرا ذہن اس بات کو نہیں مانتا، کیونکہ یزید کے عہدِ خلافت میں بہت ظلم ہوا ، اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت بھی ہوئی، اب آپ حضرات سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا احادیث میں کسی ایسی جنگ کی پیشین گوئی آئی ہے جس میں شریک ہونے والوں کے لیے جنت کی بشارت ہو؟ اور کیا یزید نے ایسی جنگ کی سپہ سالاری کی ہے جس کی وجہ سے اس کو نجات یافتہ کہا جائے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ یزید کے بارے میں اہلِ سنت و الجماعۃ کا اصل مسلک توقف کا ہے ،نہ تو اسے جنتی قرار دیا جائے اور نہ ہی اس کے نام کے ساتھ لعنت و ملامت کی جائے، بلکہ اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑا جائے، یہی سلامتی کا راستہ ہے۔
سوال میں مذکور بخاری کے حوالے سے جس پیش گوئی کا ذکر کیا گیا ہے اس میں اس کا جنتی ہونا مصرح نہیں، بلکہ مغفور ہونا مذکور ہے۔ حدیث میں بشارت کے جو الفاظ ہیں وہ یہ ہیں:
’’أول جیش من أمتی یغزون مدینۃ قیصر مغفور لہم‘‘(4/ 42)-
’’ میری اُمت کا پہلا لشکر جو قیصر (ملک روم) کے خلاف جہاد کرےگا اس کی مغفرت کی جائے گی‘‘ (اور اس غزوے کی قیادت یزید بن معاویہ نے کی تھی)، جبکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس غزوے میں شریک ہونے والوں کے وہ گناہ جو اس سے پہلے سرزد ہوئے اس غزوے کی وجہ سے معاف کیے جائیں گے نہ کہ بعد میں سرزد ہونے والے گناہ، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ جہاد کفّارات کی قبیل سے ہے اور کفارات کی یہ شان ہوتی ہے کہ اس سے پہلے سرزد ہونے والے گناہوں کو مٹاتے ہیں نہ کہ بعد کے گناہوں کو، لہٰذا اس غزوے کے بعد جو گناہ اور مظالم سرزد ہوئے، وہ اللہ کے سپرد ہے، اگر چاہے تو معاف کرے اور اگر چاہے تو سزا دے، ہمیں اس معاملہ میں پڑ کر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے ایسے احکاماتِ شرعیہ سیکھنے کی فکر کرنی چاہیے جو قبر اور آخرت میں کار آمد ہوں۔
ففی صحيح البخاري: عن خالد بن معدان، أن عمير بن الأسود العنسي، حدثه - أنه أتى عبادة بن الصامت وهو نازل في ساحة حمص وهو في بناء له، ومعه أم حرام - قال: عمير، فحدثتنا أم حرام: أنها سمعت النبي - صلى الله عليه وسلم - ، يقول: «أول جيش من أمتي يغزون البحر قد أوجبوا»، قالت أم حرام: قلت: يا رسول الله أنا فيهم؟ قال: «أنت فيهم»، ثم قال النبي - صلى الله عليه وسلم -: «أول جيش من أمتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم»، فقلت: أنا فيهم يا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ؟ قال: «لا» اھ
وفی حاشیته: (قوله: یغزون مدینة قیصر) أی ملك الروم، قال القسطلانی کان أول من غزا مدینة قیصر یزید بن معاویة ومعه جماعة من ساداتِ الصحابة الخ (۱/۴۱۰)-
وفی عمدة القاري: قلت: أي منقبة كانت ليزيد وحاله مشهور؟ فإن قلت: قال، صلى الله عليه وسلم، في حق هذا الجيش: مغفور لهم. قلت: لا يلزم، من دخوله في ذلك العموم أن لا يخرج بدليل خاص، إذ لا يختلف أهل العلم أن قوله، صلى الله عليه وسلم: مغفور لهم، مشروط بأن يكونوا من أهل المغفرة حتى لو ارتد واحد ممن غزاها بعد ذلك لم يدخل في ذلك العموم، فدل على أن المراد مغفور لمن وجد شرط المغفرة فيه منهم، وقيصر لقب هرقل ملك الروم، كما أن كسرى لقب من ملك الفرس، وخاقان من ملك الترك، والنجاشي من ملك الحبشة. (14/ 198)-