کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ
(۱) نمازِ جنازہ میں لوگ عموماً بے جوڑ صفیں بنانے کا اہتمام کرتے ہیں اور یہ بھی مشہور ہے کہ آخری صف میں کھڑا ہونا افضل ہے، شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
(۲) ایک شخص کتب خانے کا ملازم ہے، جہاں تفاسیر، قرآن مجید وغیرہ بھی دستیاب ہیں اور بارہا ان کو ہاتھ لگانے کی نوبت آتی ہے تو چونکہ ہمہ وقت با وضو رہنا مشکل ہوتا ہے تو کیا اس عذر کی بناء پر بے وضو تفاسیر و قرآن مجید کو ہاتھ لگانا درست ہے؟
از راہِ کرم ادلۂ شرعیہ کی رو سے واضح فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً
(۱) صفیں نمازِ جنازہ کی ہوں یا کسی اور نماز کی ، بے سلیقہ اور بے جوڑ بنانی درست نہیں اس سے احتراز لازم ہے البتہ نمازِ جنازہ کی آخری صف میں کھڑا ہونا بہ نسبت پہلی صفوں کے افضل ہے۔
(۲) ایسے شخص کیلئے بھی بغیر وضو قرآنِ کریم کا چھونا جائز نہیں اگر پانی قریب میں نہ ہونے یا کسی عذر کی بناء پر پاکی برقرار نہ رکھ سکتا ہو تو اس صورت میں ہاتھ میں کوئی پاک کپڑا وغیرہ لے کر اس کے ذریعہ قرآن کریم اُٹھانے کا اہتمام چاہئے، جبکہ دیگر کتب کو خواہ وہ تفسیر کی ہوں یا حدیث و فقہ وغیرہ کی ،انہیں بے وضو بھی اُٹھانے کی گنجائش ہے مگر اس سے بھی احتراز بہتر ہے۔
وفی الدر: وخیرصفوفِ الرجال اولہا فی غیر جنازۃ ثم و ثم۔وفی الرد: تحت قولہ (فی غیر جنازۃ) أما فیہا فآخرہا اظہارا للتواضع لانہم شفعاء فہو أحری بقبول شفاعتہم ولان المطلوب فیہا تعدد الصفوف فلو فضل الاول امتنعوا عن التأخر عند قلتہم (قولہ ثم وثم) أی ثم الصف الثانی افضل من الثالث وفی الجنازۃ ما یلی الاخیر افضل مما تقدمہ۔ (ج۱، ص۵۷۰)۔
وفی احکام القرآن للتھانویؒ: لا یمسہ إلا المطہرون أی لا یمس القرآن إلا طاہر وقد ذہب الجمہور ومنہم السادۃ الحنفیۃ الی أنہ لا یجوز للمحدث مس المصحف إلا بواسطۃ شیء منفصل۔ (۵، ص۱۰)۔
وفی الشامیۃ (قولہ ومسہ) أی مس القرآن وکذا سائر الکتب السماویۃ (الی قولہ) وکتب التفسیر (قولہ غیر مشرز) أی غیر مخیط بہ، وہو تفسیر للمتجا فی قال فی المغرب مصحف مشرز اجزاءہ مشدود بعضہا الی بعض من الشیرازۃ ولیست بعربیۃ اھـ فاراد بالغلاف ما کان منفصلًا کالخریطۃ وہی الکیس ونحوہا۔اھـ (ج۱، ص۱۷۴)۔