ذیل میں اعلیٰ حضرت کے ترجمہ قرآن کریم اور دیگر تراجمِ قرآن کا ایک تقابلی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے:
﴿و لما یعلم اللہ الذین جاہدوا منکم﴾
ترجمہ: اور ابھی معلوم نہیں کئے، اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں۔ (شاہ عبد القادر)
حالانکہ ابھی خدانے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں۔ (فتح محمد جالندری دیوبندی)
و ہنوز تمیز نساختہ است خدا آں را کہ جہاد کردہ اند از شما۔ (شاہ ولی اللہ)
حالانکہ ابھی اللہ نے ان لوگوں کو تم میں سے جانا ہی نہیں، جنہوں نے جہاد کیا۔ (عبدالماجد دریا دیوبندی)
اور ابھی تک اللہ نے نہ تو ان لوگوں کو جانچا ، جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں۔ (ڈپٹی نذیر احمد دیوبندی)
حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں، جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ہو۔ (تھانوی دیوبندی)
اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں۔ ( دیوبند محمود الحسن)
اور ابھی اللہ نے تمھارے غازیوں کا امتحان نہ لیا۔ (اعلیٰ حضرت)
کیا اللہ تعالیٰ علیم و خیبر نہیں؟
اللہ تعالیٰ جو علیم و خبیر ہے، عالم الغیب و الشہادۃ ہے، علیم بذات الصدور ہے ، ان مترجمین کے نزدیک اردو میں بے علم و بے خبر ہے ، آپ خود فیصلہ کریں، ترجمہ پڑھنے کے بعد علم الٰہی کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ کی صفاتِ کمالیہ، دوسری طرف اس قدر بے خبری کہ مؤمنین میں سے کون لوگ جذبۂ جہاد سے سرشار ہیں؟ اللہ کو اس کا علم نہیں ، ابھی اس نے جانا ہی نہیں، گویا شانِ رسول کی تنقیص سے فارغ ہوئے، تو شانِ الوہیت پر حرف گیری شروع کردی۔
’’اللہ نے نہیں جانا‘‘ شاہ رفیع الدین صاحب کا خیال ہے ، ’’ابھی معلوم نہیں کیا اللہ نے‘‘ شاہ عبد القادر صاحب کی ایجاد ہے، ’’ ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے ‘‘ محمود الحسن صاحب فرماتے ہیں۔
بروزِ حشر خدا و رسول کی گرفت سے نہ بچ سکیں گے۔
ترجمہ کے لکھتے وقت کس قدر غیر حاضر تھے یہ مترجمین ، کہ تفسیر کے مطالعہ کی زحمت ہی نہیں کی، اورکس سادگی سے قلم چلا دیا ، آج بھی ان حضرات کے معتقدین، مریدین، متبعین موجود ہیں ، اگر ان تراجم پر ان کے پیروکار مطمئن و خوش عقیدہ ہیں، تو بروزِ حشر خدا اور رسول کی گرفت کیلیے تیار رہیں، ورنہ تفاسیرِ قرآن و ترجمہ اعلیٰ حضرت کےمطابق آئندہ تمام ایڈیشن قرآن کریم کے درست کرا دیں، ورنہ ترجمہ پڑھنے والی کی گمراہی کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔
مہربانی فرما کر مندرجہ بالا تراجم کو پڑھیں، اورمجھے بتائیں کہ کیا آپ کے اکابر نے قرآن پاک کا غلط ترجمہ کیا ہے؟
مولانا احمد رضا خان صاحب کا ترجمہ مفہومی اور دیگر اکابرِ اہلسنت کا ترجمہ لفظی اور اصولِ عربیت کے عین مطابق ہے اور آیت میں نہ جاننے سے مراد "عدم ظہور علی الخلق" ہے، اس لیے بلا وجہ اکابرِ علماءِ اہلسنت پر معترض ہونے سے احتراز لازم ہے۔
آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0