تزکیہ نفس و تصوف

فنافی الرسول کا کیا مطلب ہے

فتوی نمبر :
61074
| تاریخ :
عبادات / عملیات و اذکار / تزکیہ نفس و تصوف

فنافی الرسول کا کیا مطلب ہے

السلام علیکم مفتی صاحب، شریعت میں فنافی الرسول کا کیا مطلب ہوتا ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ " فنافی الرسول " یا اس جیسے کلمات جیسے کہ فنافی اللہ ، فنافی الشیخ وغیرہ کے اصطلاحات نہ تو قرآن و حدیث سے ثابت ہیں، اور نہ ہی شریعت میں یہ کوئی ایسا مر تبہ ہے ، جس تک پہنچ کر فنافی الرسول ہونے کا دعوی کیا جائے ، تاہم بعض صوفیاء کرام کے ہاں یہ اصطلاح آپ ﷺ کے ساتھ کامل محبت اور اتباع کے لیے استعمال کی جاتی ہے ، یہاں تک کہ آپ کی ساری خواہشات اور امنگ حضور ﷺ کی سنت کے تابع ہو ں، اور یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسا کہ ہم اردو میں کہتے ہیں، کہ فلاں شخص قوم کی خدمت میں فنا ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالیٰ: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ } [آل عمران: 31]
و في التفسير المظهري: وهو عبارة عن اشتغال قلب المحب بالمحبوب وأنسه به بحيث يمنعه عن الالتفات الى غيره ولا يكون له بد من دوام التوجه اليه والاشتغال به وهذا هو المعنى من قولهم العشق نار فى القلوب تحرق ما سوى المحبوب- يعنى يقطع عن قلبه التوجه الى غير المحبوب فيجعله نسيا منسيا كان لم يكن فى الوجود غير محبوبه حتى يسقط عن نظر بصيرته نفسه فلا يرى نفسه كما لا يرى غيره ومقتضى تلك الصفة ابتغاء مرضات المحبوب وكراهة ما يكرهه طبعا (الى قوله) ان المحبة سبب لاتباع الرسل والاتباع دليل على وجودها وعدمه دليل على عدمها فمن ادعى المحبة مع مخالفة سنة الرسول صلى الله عليه وسلم فهو كذاب يكذبه كتاب الله تعالى يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ جواب للامر تقديره ان تتبعونى يحببكم الله اھ (2 ق 1/ 36)
وفيه أيضاً: قال البغوي كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من أطاعني فقد أطاع الله ومن أحبني فقد احبّ الله فقال بعض المنافقين ما يريد هذا الرجل الا ان نتخده ربّا كما اتخذت النصارى عيسى بن مريم فانزل الله تعالى. مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ لانه فى الحقيقة مبلغ والأمر هو الله تعالى وَمَنْ تَوَلَّى عن طاعتك فلا تهتم فَما أَرْسَلْناكَ يا محمد عَلَيْهِمْ حَفِيظاً اھ (2 ق 2/ 169)
و في صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «فوالذي نفسي بيده، لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده» اھ (1/ 12) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سہیل میرولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 61074کی تصدیق کریں
0     314
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • قوالی کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کس سے اصلاحی تعلق قائم کیا جائے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 1
  • میاں بیوی میں سے ہر ایک کا الگ الگ پیر سے بیعت ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے معافی کاطریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • گناہوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کا طریقہ

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • ذکر و اذکار اور وظائف کے لئے شیخ کی اجازت کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • کسی ولی کی روح سے فائدہ پہنچنےکا عقیدہ رکھنا کیسا ہے؟

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
  • فنافی الرسول کا کیا مطلب ہے

    یونیکوڈ   تزکیہ نفس و تصوف 0
Related Topics متعلقه موضوعات