سوال یہ ہے کہ اگر کسی پر سجدہ سہو لازم تھا اور اس نے سلام پھیر دیا اور پھر عمل کثیر کرلیا جیسے دونوں ہاتھوں سے خارش کرنے لگا تو کیا اب اسے از سر نو نماز پڑھنا ہوگی یا اب بھی سجدہ سہو کرسکتا ہے؟
اگر کسی کے ذمہ سجدہ سہو لازم تھا، لیکن اس نے بھولے سے دونوں طرف سلام پھیر دیا تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ جب تک اس نے نماز کے منافی کوئی عمل نہ کیا ہو تب تک یاد آنے پر وہ سجدہ سہو کرسکتا ہے، لیکن اگر اس نے نماز کے منافی کوئی عمل کیا (مثلا عمل کثیر کا ارتکاب کیا) تو ایسی صورت میں اس کے لیے سجدہ سہو کرنا درست نہ ہوگا بلکہ اس کے ذمہ نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔
كما في الهندية: العمل الكثير يفسد الصلاة والقليل لا (الى قوله) ( الأول ما يقام باليدين عادة كثير وإن فعله بيد واحدة كالتعمم ( الى قوله) (والثالث) أنه لو نظر إليه ناظر من بعيد إن كان لا يشك أنه في غير الصلاة فهو كثير مفسد وإن شك فليس بمفسد وهذا هو الأصح. هكذا في التبيين وهو أحسن. (101/1)
وفى الدر المختار: (و) يفسدها (كل عمل كثير) ليس من أعمالها ولا لإصلاحها، وفيه أقوال خمسة أصحها (ما لا يشك) بسببه (الناظر) من بعيد (في فاعله أنه ليس فيها)وإن شك أنه فيها أم لا فقليل،(1)(624)
وفي رد المحتار: (قوله وفيه أقوال خمسة أصحها ما لا يشك إلخ ) صححه في البدائع، وتابعه الزيلعي والولوالجي. وفي المحيط أنه الأحسن . وقال الصدر الشهيد: إنه الصواب. القول الثاني أن ما يعمل عادة باليدين كثير وإن عمل بواحدة كالتعميم وشد السراويل وما عمل بواحدة قليل وإن عمل بهما كحل السراويل ولبس القلنسوة ونزعها إلا إذا تكرر ثلاثا متوالية وضعفه في البحر بأنه قاصر عن إفادة ما لا يعمل باليد كالمضغ والتقبيل. الثالث الحركات الثلاث المتوالية كثير وإلا فقليل (1)(625)۔
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0