1. کیا فرماتے ہیں علما ءِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے کے بعض علماءِکرام کہتے ہیں کہ رمضان کے اندر تراویح میں قرآن مجید ختم کرنے سے بہتر یہ ہے کہ آخری دس سورتوں سے تراویح پڑھیں اور اس کی دو وجہ بیان کرتے ہیں ایک تو یہ کہ قرآن ختم کرنے میں تیزی کی وجہ سے کٹنگ آتی ہے اور بعض حروف بھی چھوڑے جاتے ہیں ، دوسرا یہ کہ تراویح میں ضعیف العمر لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔
2. اور بعض علماءِ کرام کہتے ہیں کہ تراویح میں لقمہ دینے سے نماز فاسد ہو جاتی ہے،کیونکہ فرض نماز میں تین آیتوں کے اندر اندر تو لقمہ دے سکتے ہیں ، مگر تین آیتوں کے بعد کسی نماز میں بھی لقمہ نہیں دے سکتے۔
1. ان علما ءِکرام کا محض دو چند حفاظ کے پڑھنے کو دیکھ کر مطلقاً دس سورتوں کے ساتھ تراویح پڑھنے کی فضلیت کاقول اختیار کرلینا قطعاً نامناسب ، اصولِ شرعیّہ سے ناواقفیت پر مبنی اور قصداً ترکِ سنت کے مترادف ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔ نیز اُن پر لازم ہے کہ اس طرح کے غلط خواں کو حکمتِ عملی کے تحت سمجھانے کی بھی پوری کوشش کریں اِلّا یہ کہ اگر کوئی حافظِ قرآن واقعۃً پڑھنے میں کوتاہی کرتا ہو ، اس طور پر کہ تیز اور جلدی پڑھنے کی وجہ سے بعض حروف چھوٹ یا کٹ جا تے ہوں اور باوجود منع کرنے کے اس حرکت سے باز نہ آتا ہو تو ایسے شخص کی اقتداء میں تراویح پڑھنے سے سورتیں پڑھنے والے درست خواں کی اقتداء میں نمازِ تراویح وغیرہ کا پڑھنا بلاشبہ بہتر و افضل ہے اوراگر امام کے انتخاب اور تقرر کا اختیار حاصل ہو تو درست خواں کا تقرر کرنا چاہیۓ۔
2. امام کے بھول جانے کی صورت میں اسے لقمہ دینا بلاشبہ جائز اور درست ہے ،خواہ فرض نماز ہو یا تراویح وغیرہ اور تین آیات پڑھ چکا ہو یا اس سے کم،لہٰذا جن علماء نے صورتِ مسئولہ میں مقتدی کے لقمہ دینے پر عدمِ جواز کا قول کیا ہے، یہ اُن کی مسائلِ شرعیہ سے ناواقفیت پر مبنی ہے، اُن پر لازم ہے کہ غلط مسائل بیان کر کے عوام میں اختلاف وانتشار پھیلانے اور بلا تحقیق مسائل بیان کرنے سے بھی احتراز کریں۔
فی التاتارخانیة:ويكره الإسراع في القرآن وفي اداء الاركان اھ(۱/۶۵۹)۔
وفي البدائع : وأمّا في زماننا فالأفضل أن یقرأ الإمام على حسب حال القوم من الرغبة والكسل فیقرأ قدر ما لايوجب تنفیر القوم عن الجماعة لان تكثر الجماعة أفضل من تطويل القران اھ(۱/۲۸۹)۔
وفی الدر المختار: (بخلاف فتحه على إمامه) فإنه لا يفسد (مطلقا) لفاتح وآخذ بكل حال اھ(1/ 622)۔
وفی البدائع: وإن كان الفاتح هو المقتدى به فالقیاس هو فساد الصلاة إلا انا استحسنا الجواز لما روی ان رسول الله صلی اللہ علیه وسلم قراء سورة المؤمنون فترك صرفاً فلمّا فرغ قال الم يكن فيكم اُبیّ قال نعم يارسول الله قال هلافتحت علیّ قال ظننت انها نسخت اھ( ۱/۲۳۶ )۔
فسنیسرہ للیسریٰ کے بجائے فسنیسرہ للعسریٰ اور فسنیسرہ للعسریٰ کے بجائےفسنیسرہ للیسریٰ پڑھ لینا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0سورۃِ فاتحہ میں ’’ولا الدالین‘‘ کی جگہ ’’ولا الضالین‘‘پڑھنے والے کو کافر کہنا
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 1شافعی امام کی امامت حنفی نماز پڑھے تو شافعی مسلک کے مطابق آیتِ سجدہ میں حنفی کے لئے حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0’’فسنیسرہ للیسری‘‘ کے بجائے ’’فسنیسرہ للعسری‘‘ پڑھنے کی صورت میں نماز اور امامت کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0۱۔ آیت ’’الَّا من تولی وَکفَرَ ‘‘ پر وقف کرنے کی صورت میں نماز کا حکم- ۲۔ دورانِ قرأت فحش غلطی کو درست کر دینے سے نماز کا حکم
یونیکوڈ تلاوت و قراءت 0