السلام علیکم! میرےاس سوال کا جواب ضرور دیجیے گا ، میں بہت پریشان ہوں ، مجھے رات کو نیند نہیں آتی اور مرنے کا خیال بھی دل میں آتا ہے کہ مرجاؤ ں ، جیسا کہ حدیثِ مبارک میں ہے کہ جو رشتے شوہر کی طرف سےہوں ، وہ بیوی کےلئے موت ہے اس سے بیوی کو پردہ کرنا چاہیٰۓ ، آج سے 10 سال پہلے ہمارے گھر میں میرے ابو کی بہن کا شوہر آیا کرتا تھا، ان کا آنا جانا ہمارے گھر میں بہت تھا ، کچھ سالوں بعد میں نے اپنی والدہ کو اور اس بندے کو غلط تعلقات میں پایا، اس وقت میری عمر بہت چھوٹی تھی جب میں نے سب کو بتایا تو کسی نے میرا یقین نہیں کیا ،اس کے بعد اس آدمی کو لیکر ہمارے گھر میں بہت لڑائی جھگڑے ہونے لگے، میرے والد نے بھی اس آدمی کو منع کیا پھر بھی وہ آدمی باز نہ آیا ، پورا گھر میری والدہ کے نام پر ہے اس لئے میری ماں ہمیں گھر سے نکالنے کی دھمکی دیتی ہے ، میں نے اپنی والدہ سے لڑائی کی تو وہ آدمی اپنے ساتھ بندوں کو لے آیا اور مجھے بہت مارا، میں6 مہینے گھر سے باہر رہا، آج بھی وہ آدمی ہمارے گھر آنے سے باز نہیں آتا، میری بہن، بھائی ابھی چھوٹے ہیں ان کو ان چیزوں کا نہیں پتہ، میرے والد کو میری امی نے دھمکی لگائی ہوئی ہے کہ تم سب کو گھر سے نکال دوں گی، میری دادی اماں ابھی زندہ ہے اورچچی بھی ہیں ،وہ سب الگ گھروں میں رہتے ہیں، کوئی بھی میری ماں سے نہیں بولتا، میری والدہ کے میری دادی کے خاندان والوں سے بات نہ کرنے کی وجہ سے وہ بندہ بھی وہاں نہیں جاتا , حالانکہ وہ اس کے سسرال کا گھر ہے،سب محلے والے ہمیں باتیں کرتے ہیں کہ کیسے مرد ہو ایک آدمی نہیں روک سکتےہو ، میرا دل چاہتا ہے کہ مرجاؤں یا اس آدمی کو مار دوں، میں پچھلے 10 سال سےاس تکلیف میں ہوں جس کی وجہ سے میری ساری پڑھائی برباد ہو گئی ہے، اپنے گھر میں غیر آدمی کو کون برداشت کر سکتا ہے، مجھے بس اتنا فتویٰ دیدیں کہ اگر میں حق پر ہوں تو میں اس آدمی کو قتل کرنے کا اسلامی حق رکھتا ہوں کہ نہیں؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کا م نہ لیا گیا ہو ، تو سائل کی والدہ اور مذکور شخص کا طرزِ عمل ناجائز اور حرام ہے جسکی وجہ سے وہ سخت گناہگار ہو رہے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرزِعمل پر بصدقِ دل توبہ و استعفار کرکے آئندہ کےلئے اس گناہ سے مکمل اجتناب کریں، جبکہ سائل کو چاہیۓ کہ از خود یا برادری اور خاندان کے معزز اور بااثر افراد کے ذریعے اپنی والدہ اور مذکور شخص کو سمجھا کر اس حرام کاری سے باز رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرے ،چنانچہ مخلصانہ کوششوں سے انشاءاللہ فائدہ ہوگا ، دونوں اس گناہ سے باز آئیں گے.
قال اللہ تعالی : ادْعُ إِلَی سَبِیلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیلِہِ وَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِینَ (النحل: 124، 125)۔
و فی صحیح مسلم : عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه و ذلك أضعف الإيمان" (63)۔
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0