حدود و قصاص

کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

فتوی نمبر :
60004
| تاریخ :
2008-03-30
عقوبات / حدود و سزا / حدود و قصاص

کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

(1)۔ کیا نبی کریم ﷺ نے کسی شخص کو اپنی زندگی میں قتل کیا ہے؟
(2)۔ کیا نبی ﷺنے چور کے ہاتھ کاٹے ؟
(3)۔ سزا کی فقہ کیا ہے ؟ سر کاٹ کر سزا دینے کی کیا حیثیت ہے ؟ کیا نبیؐ نےکبھی خود ایسا کیا ہے ؟ تمام سوالوں کے جواب عنایت فرمائیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگر چہ عام حالات میں خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے نہ تو کسی شخص کو قتل کیا ہے اور نہ ہی کسی کے ہاتھ وغیرہ کاٹے ہیں، البتہ مواقعِ جنگ میں کفار کو خود اور بعض مواقع میں مخصوص فتنہ پردازوں کو قتل کیا ، یا کسی جرم پر حد شرعی (خواہ وہ چوری پر ہو یا قذف وغیرہ پر ) نافذ کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے اور ذخیرہ کتبِ احادیث میں اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

فی صحیح البخاری : عن ابن عمر قال قطع النبي – صلی اللہ علیه وسلم - في مجن ثمنه ثلاثة دراهم اھ وفیه ایضا : عن عبد الله قال قطع النبي– صلی اللہ علیه وسلم - في مجن ثمنه ثلاثة دراهم اھ (2/1004)۔
و فیه ایضا : عن البراء بن عازب رضي الله عنهما قال بعث رسول الله – صلی اللہ علیه وسلم - رهطا إلى أبي رافع فدخل عليه عبد الله بن عتيك بيته ليلا و هو نائم فقتله اھ(2/577)۔
و في مصنف عبد الرزاق : فقام إليه علي بن أبي طالب فضرب عنقه و أما أبي بن خلف فقال و الله لأقتلن محمدا فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال بل أنا أقتله إن شاء الله قال فانطلق رجل ممن سمع ذلك من النبي صلى الله عليه و سلم إلى أبي بن خلف فقيل إنه لما قيل لمحمد صلى الله عليه و سلم ما قلت قال بل أنا أقتله إن شاء الله فأفزعه ذلك و قال أنشدك بالله أسمعته يقول ذلك قال نعم فوقعت في نفسه لأنهم لم يسمعوا رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول قولا إلا كان حقا فلما كان يوم أحد خرج أبي بن خلف مع المشركين فجعل يلتمس غفلة النبي صلى الله عليه و سلم ليحمل عليه فيحول رجل من المسلمين بينه و بين النبي صلى الله عليه و سلم فلما رأى ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم قال لأصحابه خلوا عنه فأخذ الحربة فجزله بها يقول رماه بها فيقع في [ ص 357 ] ترقوته تحت تسبغة البيضة و فوق الدرع فلم يخرج منه كبير دم و احتقن الدم في جوفه فجعل يخور كما يخور الثور فأقبل أصحابه حتى احتملوه و هو يخور و قالوا ما هذا فو الله ما بك إلا خدش فقال والله لو لم يصبني إلا بريقه لقتلني أليس قد قال أنا أقتله إن شاء الله و الله لو كان الذي بي بأهل ذي الحجاز لقتلهم قال فما لبث إلا يوما أو نحو ذلك حتى مات إلى النار اھ(5/ 355)۔
و فی البداية : عن عروة بن الزبیر قال کان أبی بن خلف أخو بنی جمح قد حلف و ھو بمكة (إلی قوله) لیقتلن رسول اللہ - صلی اللہ علیه و سلم - فلما بلغت رسول اللہ - صلی اللہ علیه و سلم- حلفه قال : بل أنا أقتله ان شاء اللہ اھ(3/162)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60004کی تصدیق کریں
0     1173
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • زنا بالجبر میں ڈی این اے ٹیسٹ - DNA Test - کے ثبوت کی حیثیت

    یونیکوڈ   اسکین   حدود و قصاص 0
  • زنا بالجبر کی صورت میں گناہگار ہونے نہ ہونے کی تفصیل

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتلِ عمد میں مکرِہ (مجبور کنندہ)پر قصاص کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حضورؐ سے بذات خود کسی مجرم کو قتل کرنا یا ہاتھ کاٹنا ثابت ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کیا حدود آرڈنینس میں تبدیلی کے مرتکب دائرۂ اسلام سے خارج شمار ہوں گے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • زانی کو از خود قتل کرنا

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کے قتل کا بظاہر سبب بننے کی ایک صورت اور اس کا حکمِ شرعی

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قصاص سے متعلق شبہ اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • قتل عمد کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 1
  • آنکھ ضائع کرنے کی جنایت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • مقتول کی دیت معاف کرنے کا اختیار کس کو ہے؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 2
  • ڈپریشن کی وجہ سے بچہ کو قتل کرنے والی ماں کیلیے حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • چچا زاد بھائیوں کا اپنی چچا زاد بہن کو قتل کرنے کی صورت میں دیت کا حکم

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
  • کسی کو قتل کرنا نجی معاملہ ہے یا حکومتی ؟

    یونیکوڈ   حدود و قصاص 0
Related Topics متعلقه موضوعات