محترم جناب مفتی صاحب ایک سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا تھا زنا بالجبر کی سزا کے سلسلہ میں، کہ جس کے ساتھ زنا بغیر مرضی کے کیا گیا اس پر کوئی سزا نہیں لیکن وہ بھی گنہگار ہوئی اور اللہ سے معافی مانگے۔مجھے یہ سمجھنے میں دقت ہورہی ہے کہ عورت کس طرح گنہگار ہوئی کیونکہ اس عمل میں نہ اس کی مرضی شامل اور روکنا اس کے بس میں نہ تھا، کیا آپ تفصیل بیان کریں گے کہ وہ کس طرح گناہ کی مرتکب ہوئی؟ کیا گناہِ کبیرہ یا صغیرہ یہ کس طرح کا گناہ ہے اور کیوں ہے؟
یا یہ صرف اس لئے ہے کہ وہ معافی مانگے کیونکہ اللہ تعالیٰ معافی مانگنے والے کو پسند کرتا ہے اور اس سے درجات بلند ہوتے ہیں، کیا رسول اللہ ﷺ کے دور کا کوئی واقعہ یا حکم یا خلفائے راشدین کا کوئی حکم ہے جس کے تحت وہ عورت گنہگار ہوئی ہے؟
اللہ میری لا علمی معاف فرمائے۔ جزاکم اللہ خیراً
زنا بالجبر کے حکم میں تفصیل ہے وہ یہ کہ مزنیہ کو اگر یقین یا گمانِ غالب ہو کہ اگر میں زنا نہیں کروں گی تو مجھے جان سے مار دیا جائے گا یا میرا کوئی عضو تلف کردیا جائے گا تو ایسی صورت میں مزنیہ پر نہ حد جاری ہوگی اور نہ وہ گنہگار ہوگی اور اگر مذکور خوف لاحق نہ ہو بلکہ صرف پٹائی لگنے یا قید وغیرہ کا خوف ہو تو ایسی صورت میں حد جاری نہ ہوگی البتہ عورت گنہگار ہوگی جس کی بناء پر صدقِ دل سے توبہ واستغفار لازم ہے، چنانچہ پہلے فتوے میں اسی صورت کے پیشِ نظر توبہ واستغفار کا حکم تحریر کیا گیا ہے جو قابلِ اشکال نہیں۔
فی الرد: أن الاکراہ لا یخرج الفعل عن کونہ زنا، وانما ہو عذر مسقط للحد وان لم یسقط الاثم کما یسقط القصاص بالاکراہ القتل دون الاثم۔ اھـ (ج۴، ص۱۹)-
وفی الهندية : والمرأۃ اذا اکرہت علی الزنا فلا حد علیہا والرجل آثم فی الاقدام علی الزنا لان الزنا من المظالم واما المرأۃ اذا کانت مکرہۃ علی الزنا تأثم ذکر شیخ الاسلام فی شرحہ فی باب الاکراہ علی الزنا أنہا ان اکرہت علی أن تمکن من نفسہا فمکنت فانہا تأثم وان لم تمکن ہی من الزنا وزنی بہا لا اثم علیہا وذکر ایضًا فی الاکراہ اذا اکرہت علی الزنا فمکنت من نفسہا فلا اثم علیہا وہذا کلہ اذا کان الاکراہ بوعید تلف فان کان الاکراہ بوعید سجن أو قید فعلی الرجل الحد بلا خلاف وأما المرأۃ فلا حد علیہا ولکنہا تأثم ولو امتنع المکرہ عن الزنا حتی قتل فہو مأجور۔ (ج۵، ص۴۸) واﷲ سبحانہ تعالیٰ اعلم
بیوی سے ہمبستری کرنے کی وجہ سے اگر بچہ ضائع ہو گیا تو کیا خاوند پر اس کی دیت آئے گی؟
یونیکوڈ حدود و قصاص 0