کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک پرانی مسجد ہے , جس کے پاس پہلے آبادی تھی لیکن دریا کے کٹاؤ کی وجہ سے آبادی وہاں سے منتقل ہو گئی ،اب جہاں آبادی ہے وہاں سے اس مسجد تک جانے میں کافی دشواری پیش آرہی ہے مثلاً ایک تو اس مسجد کی طرف جانے کےلئے کوئی مستقل راستہ نہیں ہے ،اور خاص طور پر جب بارش ہو تو ساتھ دریا بھی ہے جو بھر جاتا ہے اور مسجد کی طرف جانے کا راستہ کٹ جاتا ہے ، اس مسجد میں ان وجوہات کی بنا پر پانچ وقت کی نماز بھی ادا نہیں کی جاتی ،لہذا بستی والے چاہتے ہیں کہ اس پرانی مسجد کو شہید کر کے بستی کے قریب نئی مسجد تعمیر کی جائے اوراس پرانی مسجد کو شہید کر کےاس کا ملبہ وغیرہ منتقل کر کے دوسری مسجد میں لگا دیا جائے اور اس جگہ کو ہم چار دیواری کر کے مصلی کی شکل میں محفوظ چھوڑ دیں گے تاکہ وہاں اگر کوئی نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ لے،آیا اس پرانی مسجدکوشہیدکرکے دوسری جگہ بستی کے قریب نئی مسجد تعمیر کرنے کی شرعاً گنجائش ہے۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر پرانی مسجد کے آس پاس قرب و جوار سے آبادی منتقل ہو چکی ہو اور دریا کے کٹاؤ وغیرہ کی و جہ سے نمازیوں کو پرانی مسجد میں دشواری کا سامنا ہو , جسکی وجہ سے نئی مسجد تعمیر کرنے کی ضرورت ہو , تو بستی والوں کیلئے بستی کے قریب نئی مسجد تعمیر کرنا تو شرعاً جائز اور درست ہے، البتہ پرانی مسجد کی عمارت وغیرہ اگر مضبوط ہو ، اس کے منہدم ہونے کا اندیشہ نہ ہو ، تو بلا کسی وجہ کے پرانی مسجد کو منہدم نہ کیا جائے، بلکہ اس کو اپنی حالت پر چھوڑ کر اسے حسبِ اِستطاعت آباد رکھنے کا اہتمام کریں ، البتہ اگر عمارت بوسیدہ ہو چکی ہو یا مسجد کا ساز و سامان ( دروازے، کھڑکیاں وغیرہ) چوری اور ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں عدالتی حکم نامے یا اہلِِ محلہ کی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے پرانی مسجد کو شہید کر کے اسکا ملبہ وغیرہ نئی مسجد منتقل کیا جا سکتا ہے ، تاہم نئی مسجد تعمیر ہو جانے کے باوجود پرانی مسجد تاقیامت مسجد رہے گی،اس لئے بستی والوں پر لازم ہے کہ مسجد کے حصے کے اردگرد چار دیواری وغیرہ قائم کرے اسے محفوظ کیا جائے ،تاکہ اس کی بے احترامی نہ ہو اور بعد میں کھبی ضرورت پڑنے پر اسے مسجد کے لئے استعمال کیا جاسکے۔
کما فی الدرالمختار :(و لو خرب ما حوله و استغني عنه ، يبقى مسجدا عند الإمام و الثاني) أبدا إلى قيام الساعة ، (و به يفتي) حاوي القدسی . الخ
و في الرد تحت : (قوله : و لو خرب ما حوله) أي و لو مع بقائه عامرا و كذا لو خرب و ليس له ما يعمر به و قد استغنى الناس عنه لبناء مسجد اھ(4/385)-
و فی رد المحتار : (مطلب في نقل أنقاض المسجد ونحوه) قلت : لكن الفرق غير ظاهر فليتأمل و الذي ينبغي متابعة المشايخ المذكورين في جواز النقل بلا فرق بين مسجد أو حوض ، كما أفتى به الإمام أبو شجاع و الإمام الحلواني و كفى بهما قدوة ، و لا سيما في زماننا فإن المسجد أو غيره من رباط أو حوض إذا لم ينقل يأخذ أنقاضه اللصوص و المتغلبون كما هو مشاهد و كذلك أوقافه يأكلها النظار أو غيرهم ، و يلزم من عدم النقل خراب المسجد الآخر المحتاج إلى النقل إليه ، و قد وقعت حادثة سئلت عنها في أمير أراد أن ينقل بعض أحجار مسجد خراب في سفح قاسيون بدمشق ليبلط بها صحن الجامع الأموي فأفتيت بعدم الجواز متابعة للشرنبلالي ، ثم بلغني أن بعض المتغلبين أخذ تلك الأحجار لنفسه ، فندمت على ما أفتيت به ، ثم رأيت الآن في الذخيرة قال و في فتاوى النسفي : سئل شيخ الإسلام عن أهل قرية رحلوا و تداعى مسجدها إلى الخراب ، و بعض المتغلبة يستولون على خشبه ، و ينقلونه إلى دورهم هل لواحد من أهل المحلة أن يبيع الخشب بأمر القاضي ، و يمسك الثمن ليصرفه إلى بعض المساجد أو إلى هذا المسجد ؟ قال : نعم و حكى أنه وقع مثله في زمن سيدنا الإمام الأجل في رباط في بعض الطرق خرب ، و لا ينتفع المارة به و له أوقاف عامرة فسئل هل يجوز نقلها إلى رباط آخر ينتفع الناس به قال : نعم لأن الواقف غرضه انتفاع المار ، و يحصل ذلك بالثاني . اهـ .(4/360)-
و فی ردالمحتار تحت : (قوله: و عن الثاني إلخ)جزم به في الإسعاف حيث قال : و لو خرب المسجد ، و ما حوله و تفرق الناس عنه لا يعود إلى ملك الواقف عند أبي يوسف فيباع نقضه بإذن القاضي و يصرف ثمنه إلى بعض المساجد اهـ (قوله : و مثله حشيش المسجد إلخ) أي الحشيش الذي يفرش بدل الحصر ، كما يفعل في بعض البلاد كبلاد الصعيد كما أخبرني به بعضهم قال الزيلعي : و على هذا حصير المسجد و حشيشه إذا استغنى عنهما يرجع إلى مالكه عند محمد و عند أبي يوسف ينقل إلى مسجد آخر ، و على هذا الخلاف الرباط و البئر إذا لم ينتفع بها اهـ و صرح في الخانية بأن الفتوى على قول محمد قال في البحر : و به علم أن الفتوى على قول محمد في آلات المسجد و على قول أبي يوسف في تأبيد المسجد اهـ و المراد بآلات المسجد نحو القنديل و الحصير ، بخلاف أنقاضه لما قدمنا عنه قريبا من أن الفتوى على أن المسجد لا يعود ميراثا و لا يجوز نقله و نقل ماله إلى مسجد آخر (قوله : و كذا الرباط) هو الذي يبنى للفقراء بحر عن المصباح (قوله : إلى أقرب مسجد أو رباط إلخ) لف و نشر مرتب و ظاهره أنه لا يجوز صرف وقف مسجد خرب إلى حوض و عكسه و في شرح الملتقى يصرف وقفها لأقرب مجانس لها . اهـ . ط (4/359)-