اہلِ میت کے لیے کمیٹی کی شکل میں کھانے پینے کا انتظام کرنا جس میں سب لوگ پیسے دے کر شریک ہوتے ہیں اور خود اہلِ میت بھی اس دینے والوں میں شامل ہوتے ہیں، اس ویب سایٹ میں یہ جواب موجود ہے، لیکن کھلتا نہیں، پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے؟
یہ صورت امداد باہمی کی ہے، جو شرعا بھی جائز اور درست ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين: (قوله وباتخاذ طعام لهم) قال في الفتح ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلتهم، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «اصنعوا لآل جعفر طعاما فقد جاءهم ما يشغلهم» حسنه الترمذي وصححه الحاكم ولأنه بر ومعروف اھ (2/ 240)