السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں ایک ٹریول ایجنسی میں کام کرتا ہوں، میرے پاس ایسے کلائنٹ آتے ہیں جن کو کسی بھی ملک جانے کے لیے ایمبیسی کی appointment چاہیئے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کسی نے کینیڈا ایمبیسی کی appointment لینی ہو یا کسی بھی اور ملک کی ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے appointment آن لائن ملتی ہے، جو رش کی وجہ سے ملنانا ممکن ہوتی ہے، کچھ ایجنٹ ہیں جن کے لنکس ہوتے ہیں، وہ appointment لے کر دیتے ہیں اور پیمنٹ لیتے ہیں، کیا جو ایجنٹ پیمنٹ بتائے اس پر میں اپنا کمیشن رکھ کر appointment آگے سیل کر سکتا ہوں؟ ایک چیز مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے ، کلائنٹ کی رضامندی سے اس کو بتا کر کہ آپ کو یہ appointment اتنے کی ملے گی، اس پر اپنا منافع رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں تو کلائنٹ کے ساتھ اپنا وقت شیئر کروں گا، اور دوسرا اگر appointment نہیں ہوتی، اس میں کلائٹ پیسے نہ دے، میں خود سے اگر اس کے پیپرز آگے بھیج دوں تو مجھے اس میں نقصان کا بھی خدشہ ہے، یعنی کہ پہلے کلائنٹ اگر ریفر ینسں پر آجائے، بعد میں وہ انکار کر دے تو appointment نکلوا کر دینے والا مجھ سے تو پینٹ لے گا۔ جزاکم اللہ خیر !
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ شخص اگر ٹریول ایجنسی کا ملازم ہے ، اور اس کا کام یہی ہے تو ایسے شخص کا اپنے فرائض منصبی ادا کرنے پر تنخواہ کے علاوہ کمیشن لینا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر کوئی اور صورت ہو تو اس کو وضاحت سے لکھ کر سوال دوبارہ ای میل کر دے، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کر دیا جائے گا۔
كما في مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح: (وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهى الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة ; لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلا يجوز لهم الأخذ عليه " (6/ 2437)
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0