میں ایک کال سنٹر میں کام کرتاہوں، اگر لوگ فون کرکے کاروبار اور سرمایہ کاری کے بارے میں معلوم کریں، اور اگر وہ کسی معاملہ میں اتفاق کرکے اسے ہمارے کلائنٹ کی طرف پہنچانے کا کہے تو ہم کیاکریں؟ کیونکہ ہمیں اس کی نوعیت وغیرہ معلوم نہیں ہوتی، تو کیا یہ کاروبارجائز اور اس کی کمائی حلال ہے یا نہیں؟
سائل نے اپنے کام کی نوعیت اور ذمہ داری کی کوئی وضاحت نہیں کی , اور نہ ہی اس کام پر اشکال کی کوئی وجہ بیان کی ہے تاکہ اسے اس کے مطابق جواب دیاجاتا۔
تاہم کال سنٹر اس طرح انتظام چلانے والے ادارے کو کہاجاتاہے، جہاں لوگ اپنی شکایات یا اپنے کے مسائل کے حل کے لئے فون کے ذریعہ رابطہ کرتے ہیں، اور متعلقہ اادارہ (بینک، انشونس کمپنیاں، ٹیلی کام کمپنیاں وغیرہ) مخصوص افراد کو لوگوں کی شکایات سننے اور حل کرنے کے لئے متعین کرکے انہیں باقاعدہ اس کی تنخواہ دیتے ہیں، اسی طرح بعض لوگ باہر ممالک کی اشیاء کی مارکیٹنگ اور اسے فروخت کرنے کے لئے بھی کال سنٹر میں کام کرنے والے افراد کی خدمات لیتے ہیں اور انہیں اس کی کمیشن وغیرہ دی جاتی ہے۔
لہذا اگر سائل کی ذمہ داری حلال اشیاء کی تشہیر یا جائز امور میں لوگوں کی معاونت اور رہنمائی کرنا ہو ، اورمتعلقہ ادارے کے ساتھ اجرت یا کمیشن طے کرنے کا طریقہ کار بھی شرعی اصولوں کے مطابق انجام پایا ہو ، تو اس طرح ملازمت کرنا اور اس کی اجرت لینا ہر دو امور شرعاجائز اور درست ہے، ورنہ نہیں۔
کمافی الدرالمختار :و کل انواع الکسب فی الاباحة سواء علی المذھب الصحیح کما فی البززایة و غیرہا اھ (2/462،ط۔ سعید)
و فیه ایضا : و في الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال أرجو أنه لا بأس به و إن كان في الأصل فاسدًا ؛ لكثرة التعامل و كثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام ." اھ (مطلب في أجرة الدلال (6/ 63)،ط. سعيد)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0