کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کہ میرا نکاح تقریباً 12 سال قبل ہوگیا تھا ،اس نکاح سے ہمارے دو بچے بھی ہیں ،اب گذشتہ ہفتہ گھریلو لڑائی جھگڑے کے دوران میں نے اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ بول دیے ،الفاظ طلاق یہ ہیں "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "اور یہ میں نے انتہائی غصہ کی حالت میں کہا ہے،اب معلوم یہ کرنا کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟ اور اب ہم اپنے کیے پر پشیمان ہیں ،واپس رجوع کرنا چاہتے ہیں ،تو ہمارے درمیان رجوع اور واپسی کیلئے شرعی طریقہ کیا ہے۔
واضح ہو کہ غصے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب گھریلو لڑائی جھگڑے کےدوران غصے میں تین مرتبہ اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ""کہہ دیے، تو اس سے اسکی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے، جبکہ سائل کی بیوی عدّت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
جبکہ حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدَّتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے نکاح کرے اور حقوقِ زوجیت ادا کرے ، چنانچہ اس کے بعد اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق لئے ضروری ہے) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصے بعد طلاق دیدے،یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کے لئےعورت دوبارہ حلال ہو جائے مکروہِ تحریمی ہے ،اور احادیثِ مبارکہ میں ایسے عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ،البتہ بغیر شرط کے حلالہ بلا شبہ جائز اور درست ہے ۔
کما فی تنزیل العزیز : {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ {۔(البقرہ :230)۔
و فی صحيح البخاري: عن عائشة،" ان رجلا طلق امراته ثلاثا فتزوجت، فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: اتحل للاول؟ قال: لا حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الاول".(5261)۔
و فی الہندیہ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نکاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية الخ(473/1)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0