السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرا نام محمد ذیشان ہے اور میں نے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیا کال سینٹر کی کمائی حلال ہے یا حرام ہے ؟ کیونکہ اس میں زیادہ تر جو ہے وہ انشورنس کا کام ہے اور انشورنس کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟ میں خود بھی کال سینٹر میں کام کر رہا تھا ، لیکن جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی کمائی مناسب نہیں ہے تو میں نے چھوڑ دیا اور بند کر دیا ، اب آپ مجھے اس کا جواب دیں ، تاکہ میں پھر اس کے بعد دوبارہ کام کر سکوں یا پھر کچھ اور کام دیکھوں ، حضرت ! اس میں مختلف کمپنیز ہوتی ہیں ، جیسے فائنل ایکسپنس جو کفن دفن کی کیمپین ہیں اور میڈیکیٹ لائف انشورنس مختلف قسم کی چیزیں , آپ تحقیقات کر کے مجھے بتائیں گے تو میں اس کے بعد اپنے کاروبار کی طرف دوبارہ جاؤں گا ۔
واضح ہو کہ مروجہ انشورنس سود ، قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً نا جائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ، لہذا سائل کی اصل ذمہ داری بھی انشورنس کے لئے لوگوں کو تیار کرنا ہو تو مذکور ملازمت شرعاً جائز نہیں ، بلکہ سائل پر لازم ہے کہ جلد از جلد دوسرا کوئی ذریعۂ آمدن تلاش کرنے کی فکر کرے اور موقع ملتے ہی فوراً اس ملازمت سے استعفی دیدے ، لیکن جب تک دوسرا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں آجاتا تو مجبوری کی صورت میں مذکور ملازمت جاری رگھنے کی گنجائش ہے ، البتہ اس کے ساتھ ساتھ توبہ و استغفار اور جلد از جلد دوسری جائز ملازمت و غیرہ کی تلاش جاری رکھی جائے ۔
کما فی صحیح مسلم: عن جابر قال:لعن رسول اللہ ﷺآکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال :ھم سواء (ج 2 ص 1052)
و فی تکملۃ فتح الملھم: قولہ" کاتبہ " لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویہ لا یجوز فان کان التوظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ و الحساب فذلک حرام بوجھین : الاول:اعانۃ علی المعصیۃ والثانی : اخذ الاجرۃ من المال الحرام الخ (ج 2 ص 619)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0