براہِ کرم غسلِ میت کا صحیح طریقہ تفصیل سے بتا دیں۔
غسلِ میت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے میت کو ایک ایسے پاک صاف تخت پر لٹایا جائے جسے تین یا سات مرتبہ دھونی دی گئی ہو ، اور موٹی ایسی چادر اوپر ڈال دی جائے ، جس کے ذریعے سے ستر چھپ سکے، پھر میت کے کپڑے اتار دیئے جائیں ، پھر بائیں ہاتھ پر کپڑا باندھ کر استنجاء کرایا جائے ، پھر مسنون طریقہ سے وضو کروایا جائے ، اس کے بعد بیری کے پتّوں کے ساتھ جوش دیے ہوئےنیم گرم پانی سے سر کو دھو لیا جائے ، پھر بائیں کروٹ پر لٹا کر جسم کے دائیں حصے کو ، اور دائیں کروٹ لٹاکر بائیں حصے کو تین تین مرتبہ دھولیں ، پھر میت کے سر کے نیچے ہاتھ رکھ کر ہلکا سا اٹھائیں ، اور پیٹ پر ہاتھ ملیں ، اگر کوئی نجاست نکلے تو دوبارہ استنجاء کر وائیں ، وضو اور غسل کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
فی الدر المختار : (و يوضع) كما مات (كما تيسر) في الأصح (على سرير مجمر وترا) إلى سبع فقط فتح (ككفنه) و عند موته فهي ثلاث لا خلفه و لا في القبر (و كره قراءة القرآن عنده إلى تمام غسله) عبارة الزيلعي حتى يغسل و عبارة النهر قبل غسله (و تستر عورته الغليظة فقط على الظاهر) من الرواية (و قيل مطلقا) الغليظة و الخفيفة (و صحح) صححه الزيلعي وغيره (و يغسلها تحت خرقة) السترة (بعد لف) خرقة (مثلها على يديه) (2/ 194)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1