ہمارے گاؤں میں ایک مولوی صاحب روزانہ بعد از نمازِ عشاء لاؤڈاسپیکر کے ذریعے قرآن مجید کا لفظی ترجمہ کرتے ہیں ، لاؤڈاسپیکر کی آواز اتنی تیز ہوتی ہے کہ وہ پورے گاؤں میں دور دور تک سنائی دیتی ہے، چونکہ رات آرام کے لئے ہوتی ہے اور گاؤں میں اکثر بیمار اور بوڑھے لوگ بھی ہوتے ہیں، جنہیں اس مسلسل اور تیز آواز سے تکلیف ہوسکتی ہے۔ کیا ایسی صورتحال میں مولوی صاحب کی یہ روش اور عمل درست ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں ۔
قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کا ترجمہ و تفسیر بیان کرنا بلاشبہ باعثِ اجر و ثواب عمل ہے، لیکن اس کے لئے ایسے وقت اور طریقہ کار کا تعین کرنا بھی ضروری ہے، جو دوسروں کی ایذا رسانی اور تکلیف کا باعث نہ بنے، لہٰذا امام موصوف کو چاہیئے کہ اگر اہلِ محلہ کو اسپیکر پر ترجمۂ قرآن کی ضرورت ہو اور وہ سننا بھی چاہتے ہوں تو اس کے لئے ایسے وقت کا انتخاب کرے کہ جس میں وہ توجہ اور یکسوئی کے ساتھ ترجمہ قرآن سن سکتے ہوں، اور اس صورت میں اسپیکر کی آواز بھی اس قدر رکھے کہ آواز فقط سننے والوں تک محدود رہے، دیگر افراد کے معمولات میں خلل نہ آئے، تاکہ قرآن کی بے ادبی سے بھی بچا جاسکے ، البتہ اگر عام محلہ والوں کو تلاوتِ قرآن اور ترجمہ سننے میں کوئی دلچسپی نہ ہو اور نہ ہی وہ اس کے لئے باقاعدہ وقت دینے کے لئے آمادہ ہوں تو امام موصوف کا خود سے اسپیکر کے ذریعہ تلاوتِ قرآن اور ترجمہ سنانا یا لوگوں کے آرام کے اوقات میں بلند آواز سے اسپیکر چلانا شرعاً درست نہیں، بلکہ لوگوں کی ایذا رسانی اور تلاوتِ قرآن کے آداب کو ملحوظِ خاطر نہ رکھنے کی وجہ سے موجبِ گناہ ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار تحت ( قولہ: رفع صوت بذکر ) وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني: أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارئ إلخ ( مکروہات الصلوٰۃ ج 1 ص 660 ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً: وفي شرح المنية: والأصل أن الاستماع للقرآن فرض كفاية لأنه لإقامة حقه بأن يكون ملتفتا إليه غير مضيع وذلك يحصل بإنصات البعض؛ كما في رد السلام حين كان لرعاية حق المسلم كفى فيه البعض عن الكل، إلا أنه يجب على القارئ احترامه بأن لا يقرأه في الأسواق ومواضع الاشتغال، فإذا قرأه فيها كان هو المضيع لحرمته، فيكون الإثم عليه دون أهل الاشتغال دفعا للحرج الخ ( فصل فی القراءۃ ج 1 ص 546 ط: سعید )۔
وفی الھندیۃ: لا يقرأ جهرا عند المشتغلين بالأعمال الخ( کتاب الکراھیۃ ج 5 ص 316 ط: ماجدیۃ)۔