السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ آج کل کے اس دور میں کیا میٹر سلو کروانا ناجائز یا حرام ہے؟جبکہ حکومت کے حالات ہم سب کے سامنے ہیں کہ ہر آنے والی حکومت کا مقصد ملک کو لوٹنا اور اپنی جیبیں بھرنا ہے اور غریب عوام اس قدر مجبور ہے کہ خودکشیاں عام ہو چکی ہیں۔کیا ایسے حالات میں حکومت کے ساتھ ایمانداری کرنی چاہیئے اور وہ بھی اس قدر کہ خود کھانے کے پیسے نہ ہوں لیکن حکومت کا بل بھرنا ضروری ہو جبکہ بل میں حکومت کتنی اقسام کے ناجائز ٹیکس لگاتی ہے اسکا آپکو بھی بخوبی علم ہوگا برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں ۔شکریہ!
اگر واپڈا والے واقعۃً اپنے صارفین کو استعمال شدہ بجلی سے زیادہ یونٹ کا بل بنا کر بھیجتے ہوں تو یہ ان کی طرف سے ظلم پر مشتمل عمل ہے، جس کی جواب دہی ان کے ذمہ ہوگی، تاہم ان کے ظلم و زیادتی یا بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے معمول کے رفتار کی مطابق چلنے والا میٹر سلو کروانا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے، جبکہ محکمہ کے مجاز لوگوں کا اس سلسلہ میں کوتاہی کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہوتی ہے، اس کی وجہ سے عام عوام کے لئے بجلی کی اصل کھپت کو کم ظاہر کرکے بل میں کمی کرنا جائز نہیں۔
کما فی صحیح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أيها الناس، إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا، وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين، فقال: (يا أيها الرسل كلوا من الطيبات واعملوا صالحا، إني بما تعملون عليم) وقال: يا أيها الذين آمنوا كلوا من طيبات ما رزقناكم)ثم ذكر الرجل يطيل السفر أشعث أغبر، يمد يديه إلى السماء، يا رب، يا رب، ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام، فأنى يستجاب لذلك؟ اھ (ج2، ص703، ط: دار احیاء التراث)۔
و فی الھدایۃ: السرقة في اللغة: أخذ الشيء من الغير على سبيل الخفية والاستسرار ومنه استراق السمع قال الله تعالى: (إِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ) اھ (کتاب السرقۃ، ج 2، ص 703، دار احیاء التراث)۔
وفی الدر المختار: (وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة) اھ (کتاب الغصب، ج 6، ص 179، ط: سعید)۔
مقروض و محتاج آدمی کا کسی سرکاری ذمہ دار کےواسطہ سے ، سرکاری خزانے سے رقم لیکر قرض ادا کرنا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0مرد کے لئے پلاٹینیم کی انگوٹھی پہننے اور معتدہ بیوی اور بچوں کے نان نفقہ کا حکم
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0خاوند کا اپنی بیوی کو یکہنا کہ: یہ زیور تم پر حرام ہے،پھر اسے دوبارہ دیدینا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0ذاتی دکانوں پر بنانے ہوئے مصلے کا ملبہ اپنے استعمال میں لانا
یونیکوڈ عام استعمال کی حلال و حرام اشیاء 0