کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیانِ شرع متین ! اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دینے کے بعد اُسے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے اور اس سے حق زوجیت بھی ادا کر رہا ہے۔ کیا ایسے شخص کو اپنی خوشی اور غمی میں شریک کرنا یا اُس کی غمی اور خوشی میں شریک ہونا اور اُس کے گھر کا کھانا پینا شرعًا جائز ہے ؟ یا اُس سے قطع تعلقی کی جائے ؟ قرآن و سنت اور اجماعِ امت کی روشنی میں اس سوال کا مفصل جواب عنایت فرما کر عنداللہ ماجور ہوں ۔
صورت مسؤلہ میں مذکور شخص نے اگر واقعۃ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہوں، تو اس سے مذکور شخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، اور اب تک ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہو چکا ہے، اس پر بصدق دل توبہ و استغفار بھی کریں اور آئندہ کے لئے دوبارہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب بھی کریں، جبکہ سائل اور دیگر باثرافراد کو چاہئے کہ اس شخص کو سمجھاکر اس کے مذکور طرز عمل سے باز رکھنے کی کوشش کریں، تاہم اگر مذکور شخص کو سمجھانے کے باوجود وہ اپنے اس فعل شنیع سے باز نہ آئے تو ایسی صورت میں سائل اور دیگر افراد کے لئے اصلاح کی غرص سے مذکور شخص سے قطع تعلقی اختیار کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
کماقال الله تعالى: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تنكح زوجا غيره اھ (البقرۃ: الآیۃ230)۔
و في تكملة فتح الملهم : ثم ان الهجران الممنوع انما هو ما كان بسبب دنيوى اما اذا كان بسبب فسق المرء و عصيانه فاكثر العلماء على جوازه (الی قولہ) و حاصل ذلك ان الهجران انما يحرم اذا كان جهة غضب نفسانى اما اذا كان على وجه التغليظ على المعصية و الفسق (الى قوله) فانه ليس من الهجران الممنوع اھ (باب تحریم الھجرفوق ثلاث، بلا غذر شرعی، ج5، ص 355-356، ط:دار العلوم)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0