میں نے غصے کی حالت میں ایک ساتھ تین طلاق دی ہیں اپنی بیوی کو ، کیا طلاق ہوگئی ہے ؟
واضح ہو کہ غصہ کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، چنانچہ سائل نے جب غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاق دیدیں ،تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ عورت ایامِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها اھ ( ج 1 ، صـــ 386 ) ۔
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت معصية اھ ( ج 1 ، صـــ 387 ) ۔
وفی رد المحتار: قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش اھ (ج3، صـــ 244، ط:سعید)۔
وفیه ایضاً: و ذهب جمهور الصحابة و التابعين و من بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث اھ ( ج 3، صـــ 233، ط:سعید)۔
وفیہ ایضاً: قلت: ومقتضى هذا الفرع أن من وصل في الغضب إلى حالة لا يدري فيها ما يقول يقع طلاقه اھ (ج3، صـــ369، ط:سعید)۔
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج 1، صـــ355)۔
وفیھا ایضاً: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية اھ (ج1، صـــ473، ط:ماجدیہ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0