میرے دوست بینک میں کام کرتے ہیں ہمارے یہاں بینک میں سود کا نظام عام ہے ،ان کی تنخواہ بھی اس سود کی رقم سے ملتی ہے تو کیا یہ نوکری صحیح ہے کیوں کہ اس پیسے سے وہ اپنے خاندان کو پالتے ہیں۔
بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی لین دین سے ہے جیسے منیجر، کیشیئر، کلرک وغیرہ کی ملازمت تو ایسی ملازمت بالکل ناجائز اور حرام ہے اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حرام ہے، اب اگر آپ کے دوست کی ملازمت بھی اسی قسم کی ہو تو اس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہ راست سودی لین سے نہیں ہے جیسے چوکیدار ، گارڈ ، اور دیگر سامان وغیرہ مہیا کر نے والے کی ملازمت تو اسے اختیار کرنے والے دین کی گنجائش ہے اور اس پر ملنے والی تنخواہ بھی حلال ہے ۔
كما في مشكاة المصابيح: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: «هم سواء» . رواه مسلم اھ (2/ 855)
میزان بینک میں ملازمت اور کوئی دوسری ملازمت مل رہی ہو تو کونسی اختیار کی جائے ؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0