السلام علیکم ! میں نے کم علمی کی وجہ سے اپنی بیوی کو ویڈیو کے ذریعے طلاق دی جس میں تین بار طلاق کہا تھا جبکہ میرے علم میں یہ تھا کہ ایک طلاق ہوئی ہے ، میری نیت بھی ایک طلاق کی تھی ، جب گھر کے سب بڑوں نے ویڈیو دیکھی تو مجھے بتایا کہ طلاق ہوگئی ہے، لیکن میں نے ایک ہی دی ہے رہنمائی فرمائیں !
نوٹ! سائل سے فون پر بات ہوئی جس کے جواب میں سائل نے پوری بات وضاحت کے ساتھ سوال کی شکل میں بھیج دی اور ساتھ دونوں ویڈیو بھی بھیج دی .
السلام علیکم ! جناب مفتی صاحب ! سوال یہ ہے کہ میری دو شادیاں ہوئی تھیں ، میں نے گھر والوں سے چھپ کر دوسری شادی کی تھی جس پر میرے ماموں اور گھر والوں نے زبردستی میری طلاق کروادی اور میری ویڈیو بنا کر میرا بیان لیا تھا ، جبکہ میں طلاق دینا نہیں چاہتا تھا اور میری رہنمائی کے مطابق ایک بار میں تین طلاقیں دینے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے، اس وجہ سے میں نے ویڈیو میں طلاق دے دی ، پھر دوسری بیوی سے رابطے میں تھا اور دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے میں نے پہلی بیوی کو ایسے ہی ویڈیو بنا کے طلاق دے دی ،جیسے مجھ سے زبردستی دوسری بیوی کو دلوائی تھی ، تو جناب میری معلومات کے مطابق میں نے 1 طلاق دی تھی ،لیکن دونوں ویڈیو میں جو بیان تھا وہ ایسے تھا کہ میں "میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں " رہنمائی کریں اس کے مطابق جب صرف ویڈیو دیکھ کر دوسرے مفتی صاحب یہ کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے جب کہ اصل کہانی سے سب بے خبر ہیں۔
واضح ہو کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہوں یا الگ الگ جملوں سے دی ہوں ان دونوں صورتوں میں تین طلاقیں شمار ہوتی ہیں ، جبکہ جبر و اکراہ کی صورت میں زبردستی طلاق میں اگر زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کردیے جائیں تو طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق جب سائل سے دوسری بیوی کو طلاق دینے کی ویڈیو زبردستی ریکارڈ کروائی اور سائل نے دوسری بیوی کو مطمئن کرنے کے لئے پہلی بیوی کے لئے بھی طلاق کی ویڈیو ریکارڈ کرلی ان الفاظ کے ساتھ " میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں ، میں تجھے طلاق دیتا ہوں " تو اس سے سائل کی دونوں بیویوں پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ، لہٰذا سائل پر لازم ہے کہ فوراً اپنی دونوں بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلے اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کرے ورنہ سخت گنہگار ہوں گے ، جبکہ دونوں عورتیں ایام عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہیں۔
کما فی الدرالمختار :(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق اھ ( ج۳ ، ص۲۳۵ ، کتاب الطلاق ، ط۔سعید)۔
و فی الھدایۃ : ويقع طلاق كل زوج إذا كان عاقلا بالغا (الی قولہ) " وطلاق المكره واقع الخ (ج۱ ، ص۲۲۴ ، کتاب الطلاق ، ط۔دار احیاء )۔
و فی بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛ الخ(ج۳ ص۱۸۷ ، کتاب الطلاق ، ط۔دارالکتب العلمیہ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0