میں انگریزی کا استاد ہوں،میں غیر ملکی طلباء کو آن لائن پڑھا رہا ہوں،میں اہلیت کے بارے میں جھوٹ بولتا ہوں،میں ایک ڈاکٹر ہوں،لیکن میں ان سے کہتا ہوں کہ میں انگریزی کا اعلی تعلیم یافتہ استاد ہوں،میں انہیں اپنی قومیت اور اپنی حقیقی اہلیت کے بارے میں نہیں بتاتا،میری کمائی حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ جھوٹ بولنا بہت بڑا گناہ ہے،جس پر قرآن وحدیث میں سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا سائل پر لازم ہے کہ اپنے متعلق غلط بیانی اور دروغ گوئی سے ہر گز کام نہ لے،بلکہ سچ بولنے کا اہتمام کرے،تاہم اگر سائل میں مذکور کام کی اہلیت ہواور سائل صحیح طریقہ سے اپنے طلباء کو پڑھاتا ہو تو سائل کی کمائی حلال ہے،اس کو حرام نہیں کہا جاسکتا۔
کما فی جامع الترمذی: عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال اذا کذب العبد تباعد عنہ الملک میلا من نتن ماجاء بہ الحدیث (ج2 ص18 ابواب البر والصلۃ،باب ماجاء فی الصدق و الکذب ط: المیزان)۔
وفی سنن ابی داود: قال رسول اللہ ﷺ لیس منا من غش اھ (کتاب البیوع،باب النھی عن النجش ط: امدادیۃ)۔
وفی بذل المجھود: قال فی القاموس غشہ لم یمحضہ النصح او اظھر لہ خلاف ما اضمرہ کغششہ و الغش بالکسر الاسم منہ الخ (ج5 ص273 کتاب البیوع ط: قاسمیۃ)۔
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0