طلاق کے بعد اگر میاں، بیوی ایک دوسرے کو ملتے ہوں، لیکن رہتے الگ جگہ پر ہوں، مرد عورت کی طرف جاتا ہو، اولاد جوان اور شادی شدہ ہو اور مرد اس طلاق شدہ بیوی اور اولاد پر اپنی کمائی خرچ کرتا ہو ،اور وہ مرد اپنی والدہ کے گھر رہتا ہو اور اس گھر میں اور بھی فرد رہتے ہوں ،اور اس گھر میں جو فرد رہتے ہیں ،ان پر کوئی نقصان تو نہیں ہوتا اور اس مرد کا اس گھر میں رہنا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ طلاق کی عدت گزر جانے کے بعد میاں بیوی ایک دوسرے کے لئےاجنبی بن جاتےہیں، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور شخص اور اس کی مطلقہ بیوی ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن چکے ہیں ،لہذابغیر کسی عذر شرعی کے آپس میں میل جول رکھنا، تنہائی اختیار کرنا یا گپ شپ لگاناشرعاً جائز نہیں ہے،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے ،جبکہ مطلقہ بیوی اور بالغ اولاد کا نان ونفقہ آدمی پر لازم نہیں ہے، البتہ اگر پھر بھی وہ اپنی اولاد اور سابقہ بیوی پر خرچ کر تا ہو تو یہ اس کی طرف سے تبروع اور احسان شمار ہو گا ۔
کمافی ردالمحتار:تحت (قوله الخلوة بالأجنبية) أي الحرة لما علمت من الخلاف في الأمة، وقوله: حرام قال في القنية مكروهة كراهة تحريم(کتاب الحضر والاباحۃ ،فصل فی النظر والمس ج6 ص368،ط:سعید)۔
وفی الدرالمختار :قال: ولهما أن يسكنا بعد الثلاث في بيت واحد إذا لم يلتقيا التقاء الأزواج، ولم يكن فيه خوف فتنة انتهى۔ وسئل شيخ الإسلام عن زوجين افترقا ولكل منهما ستون سنة وبينهما أولاد تتعذر عليهما مفارقتهم فيسكنان في بيتهم ولا يجتمعان في فراش ولا يلتقيان التقاء الأزواج هل لهما ذلك؟ قال: نعم، وأقره المصنف۔
وفي الردالمحتار:(قوله: وسئل شيخ الإسلام) حيث أطلقوه ينصرف إلى بكر المشهور بخواهر زاده، وكأنه أراد بنقل هذا تخصيص ما نقله عن المجتبى بما إذا كانت السكنى معها لحاجة، كوجود أولاد يخشى ضياعهم لو سكنوا معه، أو معها، أو كونهما كبيرين لا يجد هو من يعوله ولا هي من يشتري لها، أو نحو ذلك والظاهر أن التقييد بكون سنهما ستين سنة وبوجود الأولاد مبني على كونه كان كذلك في حادثة السؤال كما أفاده ط(کتاب النکاح ،فصل فی الحداد ج 3 ص538،ط:سعید )۔