بخدمت جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی
جناب عالی! میرا نام خدیجہ ولد خورشید احمد ہے،میری شادی 2023 میں شیراز احمد ولد فیاض احمد سے کراچی میں انجام پائی , جناب عالی! میرا شیراز احمد سے ایک بچہ ہے،جو کہ بڑے آپریشن سے پیدا ہوا ہے،واضح رہے کہ میری شیراز احمد سے دوسری شادی ہوئی ہے،ان کی پہلی بیوی موجود تھی،شادی کے بعد شیراز احمد نے میرے ساتھ رویّہ بدل لیا،اور میری حق تلفی کرنا شروع کردی،اور مجھے مار کٹائی بھی کرنے لگا،میرے بچے کی پیدائش پر بھی کوئی اخراجات نہیں دیے،میں دو تین دفعہ ناراض ہوکر اپنے والد کے گھر آئی،لیکن ان کے کہنے پر واپس چلی جاتی،انہوں نے مجھے لکھ کر دیا تھا کہ میں مارکٹائی یا حق تلفی نہیں کرونگا،لیکن ہر دفعہ اپنی بات سے پھر جاتےاور میرے ساتھ بُرا سلوک کرتے ہیں ، اب وہ کہہ رہے ہیں کہ میرا بچہ مجھے واپس کرو،بچہ بھی جس کے پیدائش کے اخراجات بھی میرے ماں باپ نے کیے،میرا پیٹ چاک کرکے نکالا گیا، میری درخواست ہے کہ مجھے بتائیں کہ اس بچہ پر میرا حق زیادہ ہے یا اس باپ کا جس نے پیدا ہونے کی کوئی خبر بھی نہیں رکھی،جبکہ ہمارے درمیان کوئی طلاق نہیں بس ناراضگی اور جدائی ہے،بچے کی عمر دس(10) مہینے ہیں۔
واضح ہوکہ میاں بیوی کے درمیان ناراضگی یا علیحدگی کی صورت میں بچہ سات(7)سال کی عمر کو پہنچنے سے قبل شرعاً ماں ہی بچہ کی پرورش کی زیادہ حقدار ہوتی ہے،اور اس دوران بچہ کے نان نفقہ اور اس کی کفالت پر آنے والے تمام اخراجات بچے کے والد کے ذمہ اس کی وسعت کے مطابق لازم ہوتے ہیں،لہذا سائلہ کے شوہر کا سات سال سے قبل بچہ کو ماں سے علیحدہ کرکے اپنی تحویل میں لینا درست نہیں،بلکہ اسے اپنے مذکور رویّہ سے اجتناب اور بیوی و بچہ کے حقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے اپنا گھر بسانے کا اہتمام کرنا چاہئیے ،تاکہ مؤاخذۂ اخروی سے سبکدوشی ممکن ہوسکے،جبکہ سائلہ کو بھی ناراضگی کو طول دینے کے بجائےصلح صفائی سے کام لے کر اپنا گھر آباد کرنے کی فکر کرنی چاہئیے۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: وأما وقت الحضانة التي من قبل النساء فالأم والجدتان أحق بالغلام حتى يستغني عنهن فيأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده كذا ذكر في ظاهر الرواية، وذكر أبو داود بن رشيد عن محمد ويتوضأ وحده يريد به الاستنجاء أي ويستنجي وحده ولم يقدر في ذلك تقديرا وذكر الخصاف سبع سنين أو ثمان سنين أو نحو ذلك الخ (ج4 ص42 کتاب الحضانۃ،فصل فی وقت الحضانۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي الخ (ج1 ص541 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفیھا أیضاً: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول الخ (ج1 ص542 کتاب الطلاق،الباب السادس عشر فی الحضانۃ ط: ماجدیۃ)۔