السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
حضرت میں پکچر پرنٹنگ کا کام کرتاہو ں جس میں مگ پرنٹنگ ، فریمز اور البم شامل ہیں , مجھے بتائیں یہ کام کرنا حلال ہے یا حرام ہے ؟ اور مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟ رہنمائی فرمادیں ۔ جزاکم اللہ خیراً
احادیثِ طیبہ میں تصاویر بنانے کے حوالے سے بڑ ی سخت وعید یں وارد ہوئی ہے لہذا بلاضرورت ِشدیدہ کسی بھی ذی روح کی تصویر بناکر پرنٹ کروانا شرعا ً ناجائز اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام ہے- اس لئے سائل اگر اس غیرِ شرعی کام سے اجتناب کرتے ہوئے اگر اپنا کام غیر ذی روح اشیا ء کی تصویر سازی جیسے پھول ، درخت ، پہاڑ وغیرہ دیگر قدرتی مناظر تک محدود کر دے تو یہ شرعا ً جائز اور اس کی آمدنی حلال ہوگی - تاہم اب تک لاعلمی اور نادانی سے کی گئی غلطی پر توبہ و استغفار کرتے ہوئے جلد از جلد جائز اور حلال روز گار کی کو شش کرنی چا ہیئے۔
کما فی الصحیح لمسلم: قال حدثنی یحییٰ بن یحیی قال قرأت علی مالک عن نافعٍ عن القاسم بن محمد عن عائشۃؓ أنھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر ( الی قولہ) فقال لھم : احیوا ما خلقتم ثم قال "ان البیت الذی فیہ الصور لاتدخلہ الملائکۃ الخ
و فی حاشیتہ : وھذہ الاحادیث صریحۃ فی تحریم تصویر الحیوان، و انہ غلیظ التحریم، و اما الشجر و نحوہ مما لا روح فیہ فلا یحرم صنعتہ، و لا التکسب بہ، الخ (کتاب اللباس، ح: 5531، ج2، ص 1117، ط: مکتبۃ البشریٰ)-
و فی تکملۃ فتح الملھم: اما اتخاذ الصورۃ الشمسیۃ للضرورۃ او الحاجۃ کحاجتھا فی حاجۃ السفر، و فی التاشیرۃ و البطاقات الشخصیۃ او فی مواضع یحتاج فیھا الی معرفۃ ھویۃ المراء ینبٖی ان تکون مرخصا فیہ فان الفقھاءؒ استثنوا مواضع الضرورۃ من الحرمۃ قال الامام محمدؒ فی السیر الکبیر " و ان تحققت الحاجۃ لہ الی استعمال السلاح الذی فیہ تمثال فلا باس باستعمالہ" و اعقبہ السرخسیؒ فی شرحہ 2/278 بقولہ لان مواضع الضرورۃ مستثناۃ من الحرمۃ کما فی تناول المیتۃ الخ ( کتاب اللباس، والزینۃ، ج 4، ص 164، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)-
و فی الھندیۃ: و فی نوادر ھشام عن محمدؒ رجل استاجر رجلاً لیصور لہ صوراً او تماثیل الرجال فی بیت او فسطاط فاننی اکرہ ذالک و اجعل لہ الاجرۃ قال ھشام تاویلہ اذا کان الاصباغ من قبل الاجیر کذافی الذخیرۃ، ولو استاجر رجلاً ینحت لہ اصناما ً اس یجعل علی اثوابہ تماثیل و الصبغ من رب الثوب لا شیئ لہ کذا فی الخلاصۃ الخ( کتاب الاجار، الباب السادس، ج 4، ص 450، ط: ماجدیہ)-