السلام علیکم ورحمۃ اللہ !جناب شیخ صاحب:کوئی خاص مشورہ یا وظیفہ بتادیجیے،میراا یک کلاس فیلو ہے،جس سے میری کئی سالوں سے دوستی چل رہی ہے،الحمد للہ دوستی بہت اچھی ہے،اچھی دوستی کی بناء پر میرے دل کی بہت زیادہ خواہش ہے کہ اس کے خاندان میں اس کی بہن کے ساتھ رشتہ کروں تاکہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ اور بھی قریب ہوجائیں،میں نے ایک بار اس کے گھر منگنی کے لیے اپنی والدہ بھیج دی تھی،لیکن انہوں نے ادھر اُدھر کے بہانہ سے جان چھڑائی،اب دلی خواہش بھی زیادہ ہے،لیکن بار بار رشتہ مانگنے پر شرم بھی بہت زیادہ آتی ہے،کیونکہ میرا دوست ہے شاید کہ دل میں وہ یہ نہ سوچے کہ آپ نے میرے ساتھ دوستی اس غرض سے کی تھی کہ آپ میری بہن کے لیے خاموش تھے،اب میرا دل چاہتا ہےکہ وہ خود ہی رشتہ بھیج دے اپنی خوشی سے جس رشتہ کو میں چاہتا ہوں،اس مقصد کے لیے کوئی خاص وظیفہ یا کوئی مناسب طریقہ کار بتائے؟شکریہ جناب
سائل کو چاہیے کہ وہ مذکور حاجت اور پسند کے رشتہ کے لیےبسم اللہ الرحمن الرحیم کو بارہ ہزار دفعہ اس طرح سے پڑھے کہ جب ایک ہزار کا عدد پورا ہوجائے، تو دو رکعت نفل نمازپڑھ کر اپنی حاجت کے لیےاللہ تعالیٰ سے خوب دعا مانگے،دعا کے بعد پھر”بسم اللہ “پڑھنا شروع کردے،یہاں تک کہ دوبارہ ایک ہزار کے عدد کو پہنچ جائے،تو دوگانہ نماز ادا کرنے کے بعد سابقہ حاجت کے لیے مکرر دعا مانگے،غرض اسی نہج وطرز پر بارہ ہزار کی تعداد پوری کرے،نیز یہ وظیفہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ اپنے بڑوں کے ذریعے دوبارہ رشتہ بھی بھیج دےاور پنج وقتہ نمازوں کا اہتمام بھی کریں،اس عمل کی پابندی کی برکت سے ان شاء اللہ تعالیٰ امید ہے کہ سائل کی مذکور حاجت پوری ہوجائےگی۔(ماخوذ از اعمالِ قرآنی صفحہ 47 ط: دارالاشاعت)۔