( 1 ) کیا ا ی،او، بی ،آئی میں نوکری کرنا حلال ہے یا حرام ؟ یہ ادارہ پرائیویٹ کمپنیز کے ملازمین کو پنشن فراہم کرتا ہے ، یہ ادارہ نوکر اور اس کے آجر جو کمپنی ہے، اس سے اس کی تنخواہ کا کچھ حصہ ماہانہ طور پر لیتا ہے، پھر اسی میں اسی رقم کو ملا کر وہ بینک میں جمع کرواکے سود جمع کرتے ہیں ، اور ساتھ میں کچھ پیسہ وہ کاروبار یعنی بنگلوں ،پلاٹوں وغیرہ میں بھی لگاتے ہیں ، لہذا زیادہ تر حصہ جو ہے نہ وہ بینک میں ڈپازٹ کرواکے سود لیتے ہیں تو کیا ان سے ملنے والی سیلری ،یعنی تنخواہ لینا حرام ہوگا یا حلال ؟
( 2 ) اس ادارے میں چونکہ ہماری سیلری سے کٹوتی ہوکے ہماری رقم جمع ہوتی رہتی ہے ، اور رٹائر منٹ یا پھر فوتگی کی صورت میں ہمیں کئی گنا زیادہ پنشن اکٹھی مل جاتی ہے ، تو کیا وہ بھی حلال ہے یا حرام ؟ اوپر ان کے کاروبار کا ذکر ہوچکا ہے ۔
واضح ہو کہ ای او بی آئی (EOBI) ایک سرکاری ادارہ ہے جو پرائیویٹ کمپنیوں اور اداروں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ ملازمین کی تنخواہوں میں سے کچھ رقم کاٹ کر EOBI میں جمع کروائیں، تاکہ ملازم کے ریٹائر ہونے کی صورت میں ا س کو اور وفات کی صورت میں اس کے لواحقین کو اصل جمع کردہ رقم سمیت کچھ زائد رقم ادا کرے، چونکہ اس میں ملازم کو اپنی تنخواہ میں سے کٹوتی نہ کروانے کا اختیار نہیں ہوتا، بلکہ یہ کٹوتی جبراً کی جاتی ہے، لہذا ملازم یا لواحقین کیلئے مذکور رقم اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے۔ اور اگر کٹوتی اختیاری ہو تو جتنی رقم ملازم کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور جو رقم ابتدا میں کمپنی شامل کرتی ہے، وہ رقم ملازم کے لیے لینا جائز ہوگا، اس پر ملنے والی اضافی رقم ( انٹرسٹ ) لینا جائز نہیں ہوگا۔
البتہ اگر مذکور ادارے کی آمدنی کا کل حصہ سودی لین دین پر مشتمل نہ ہو بلکہ وہ کمپنیوں سے حاصل شدہ رقوم کو بینک ڈپازٹ کے علاوہ دیگر حلال ذرائع آمدن میں انویسٹ کرکے منافع بھی حاصل کرتی ہوتو اس ادارے میں بطور ملازم کام کرنے کی گنجائش ہے، اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ بھی حلال ہے۔ تاہم چونکہ اس ادارے میں آمدن کا ایک بڑا حصہ سودی لین دین سے حاصل کیا جاتاہے، اس لیے بہتر یہی ہےکہ اس قسم کے مشکوک اور مشتبہ آمدن والے ادارے میں کام کرنے کے بجائے کسی حلال طیب آمدن والی جگہ پر ملازمت اختیار کی جائے ۔
کما فی الدر المختار: (هي) لغة: التفضل على الغير ولو غير مال. وشرعا: (تمليك العين مجانا) أي بلا عوض لا أن عدم العوض شرط فيه وأما تمليك الدين من غير من عليه الدين فإن أمره بقبضه صحت لرجوعها إلى هبة العين (وسببها إرادة الخير للواهب) دنيوي كعوض ومحبة وحسن ثناء، وأخروي: قال الإمام أبو منصور يجب على المؤمن أن يعلم ولده الجود والإحسان كما يجب عليه أن يعلمه التوحيد والإيمان؛ إذ حب الدنيا رأس كل خطيئة نهاية مندوبة وقبولها سنة قالﷺ «تهادوا تحابوا»۔اھ (5/ ص687، ط سعید )-
وفی فقه البیوع: اما اذا کانت الوظیفة لیس لھا علاقة مباشرة بالعملیات الربویة مثل وظیفة الحارس او سائق السیارة، او العامل علی الھاتف، او المؤظف المسؤل عن صیانة البناء (الیٰ قوله) فلا یحرم قبولھا ان لم یکن بنیة الاعانة علی العملیات المحرم، و ان کان الاجتناب عنھا اولیٰ، و لایحکم فی راتبه بالحرمة، لما ذکرنا من التفصیل فی الاعانة و التسبب و فی کون مال البنک مختلطاً بالحلال والحرام و یجوز التعامل مع مثل ھؤلاء المؤظفین ھبة او بیعاً او شراءً۔اھ (ج1/ ص 1065، ط دار العلوم کراچی )-
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0